نئی دہلی (پاک ترک نیوز )بھارت بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم طارق رحمان کو دہلی مدعو کرنے کے لیے سرگرم ہوگیا ہے، تاہم بنگلہ دیشی حکومت نے ابھی تک دورے کی حتمی منظوری نہیں دی۔
بھارتی صدر کے دفتر سے رواں ماہ ایک ای میل جاری ہوئی جس میں بتایا گیا کہ صدارتی محل میں ہونے والی گارڈ تبدیل کرنے کی تقریب منسوخ کردی گئی ہے کیونکہ بنگلہ دیشی وزیراعظم طارق رحمان کے استقبال کی ریہرسل جاری ہے۔ تاہم کسی سرکاری دورے کا اعلان نہ ہونے کے باعث ای میل کچھ ہی گھنٹوں بعد واپس لے لی گئی۔
طارق رحمان رواں سال فروری میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی کامیابی کے بعد وزیراعظم بنے ہیں اور اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ ان کا بھارت کا پہلا ممکنہ دورہ ہوگا۔
بھارت کی خواہش ہے کہ نئے بنگلہ دیشی وزیراعظم کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع کیا جائے۔ دونوں ممالک کے تعلقات سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد شدید کشیدگی کا شکار ہوئے تھے۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں عوامی احتجاج کے بعد اقتدار سے الگ ہوکر بھارت چلی گئی تھیں اور اب بھی بھارت میں موجود ہیں۔ بنگلہ دیش نے ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے، جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ اس درخواست کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق شیخ حسینہ کی حوالگی کا معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ حسینہ کو احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزام میں غیر موجودگی میں سزائے موت سنائی جاچکی ہے، تاہم وہ ان الزامات سے انکار کرتی ہیں۔
دوسری جانب بھارت نے طارق رحمان کی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ بھارت نے انہیں باقاعدہ دورے کی دعوت دی، جبکہ ڈھاکا میں بھارتی ہائی کمشنر نے بھی بنگلہ دیشی حکام سے اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں کی ہیں۔
بھارت بنگلہ دیش کے لیے بجلی، ایندھن اور طبی ویزوں سمیت فوری ضروریات میں تعاون بھی بڑھا رہا ہے، جبکہ تجارت سے متعلق بعض دوطرفہ نظام بھی بحال کیے گئے ہیں۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4 ہزار 96 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان گہرے ثقافتی و لسانی روابط موجود ہیں۔ گزشتہ سال دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 12 ارب ڈالر سے زائد رہی، جس میں بھارت کو نمایاں تجارتی فائدہ حاصل ہے۔
بنگلہ دیش بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں تک رسائی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور میں دونوں ملکوں نے سڑک، ریلوے اور بندرگاہوں کے روابط میں اضافہ کیا، جس سے بھارت کے لیے شمال مشرقی علاقوں تک رسائی بہتر ہوئی۔
تاہم شیخ حسینہ کے بھارت میں قیام نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ 5 اگست کو شیخ حسینہ نے دہلی میں ایک تقریب سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے طارق رحمان کی حکومت پر اپنے حامیوں کو دبانے کا الزام لگایا اور دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آنے کا عزم ظاہر کیا۔
بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کو بھارتی سرزمین سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا، جبکہ بھارت نے کہا کہ اس تقریب میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کے لیے بھی ایسے وقت میں دہلی کا دورہ کرنا سیاسی طور پر حساس ہوسکتا ہے جب شیخ حسینہ بھارت میں موجود ہیں۔
بھارت کی طارق رحمان کو دہلی لانے کی خواہش صرف شیخ حسینہ کے معاملے تک محدود نہیں۔ بنگلہ دیش نے شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں تیز کردی ہیں، جسے بھارت خطے میں اپنے مفادات کے تناظر میں اہم پیش رفت سمجھتا ہے۔
یوں دہلی طارق رحمان کے دورے کو بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی ازسرنو تعمیر، علاقائی رابطوں اور اپنے شمال مشرقی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک اہم موقع سمجھ رہا ہے۔












