اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) تحریک انصاف کے ستائیس ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف درخواست کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی ، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ احتجاج صرف اسلام آباد میں ہی نہیں، کہیں اور بھی ہوسکتا ہے، تاہم اگر اسلام آباد کے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں گے تو عدالت مداخلت کرے گی۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد جتنا یہاں کے لوگوں کا ہے، اتنا ہی خیبرپختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور سندھ کے لوگوں کا بھی ہے، یہ تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ باقی صوبوں کے لوگوں کو اسلام آباد سے الگ کیا جا رہا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ دو سال سے اڈیالہ جیل سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، کیا اس کے خلاف شہریوں کو احتجاج کا حق بھی نہیں؟چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ وہ معاملہ توہینِ عدالت کرنے والے اور عدالت کے درمیان ہوتا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسی وجہ سے کیسز بھی مقرر نہیں کیے جا رہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیس مقرر کرنا عدالت کا انتظامی اختیار ہے، آپ تو عجیب سی باتیں کرنے لگ گئے ہیں، کیا کیسز آپ کے مطابق مقرر ہونے ہیں؟چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ "یہ تو آپ نے سیدھا سیدھا عدلیہ پر حملہ کردیا۔”
یہ بھی پڑھیں: پشاور میں مبینہ پولیس مقابلہ، اجتماعی زیادتی کیس کے 4 ملزمان ہلاک
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر بھی اعتراض اٹھایا۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اختیار صرف اسلام آباد تک محدود ہے، آئین کے تحت عدالت کا دائرہ اختیار خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ یا بلوچستان کو ہدایات دینے تک نہیں پہنچتا۔چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ گزشتہ روز یہاں عدلیہ کو طاقتور کرنے کی بات کی گئی تھی۔ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ وہ اپنی بات پر اب بھی قائم ہیں اور 2007 میں وہ اس تحریک کا حصہ تھے۔اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ "وہ عدلیہ ختم ہوچکی ہے، چلی گئی ہے۔”سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ پنجاب اور رانا ثناء اللہ کے بیانات کا بھی حوالہ دیا۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق نامناسب بات کی، وزیراعلیٰ پنجاب عدالت میں موجود نہیں اور نہ ہی ان کا اس کیس سے کوئی تعلق ہے۔عدالت نے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی خیبرپختونخوا کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے ان سے بیانِ حلفی بھی طلب کرلیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔












