لاہور( پاک ترک نیوز) عید قرباں قریب آتے ہی گھروں میں لائے گئے بکرے، دنبے اور چھترے اب صرف جانور نہیں رہے بلکہ گھر کے افراد کی طرح توجہ کا مرکز بن گئے ۔۔۔ کہیں بچے اپنے بکروں کو نہلا رہے ہیں، کہیں انہیں رنگ برنگی پٹیاں اور گلے کے ہار پہنائے جا رہے ہیں۔۔۔ جبکہ ننھے منے بچے اپنے قربانی کے جانوروں کے ساتھ کھیل کود اور اٹھکیلیوں میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔
شہروں اور دیہات میں عید قرباں کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔۔ مویشی منڈیوں سے خریدے گئے جانور اب گھروں، گلیوں اور چھتوں کی رونق بن گئے ہیں۔۔۔ بچے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اپنے بکرے یا چھترے کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔
کوئی اپنے جانور کو سبز چارہ کھلا رہا ہے تو کوئی اسے نہلا کر سجاوٹ میں مصروف ہے۔۔۔ کئی بچوں نے اپنے جانوروں کے نام بھی رکھ دیے ہیں اور انہیں خاندان کے فرد کی طرح پیار دیا جا رہا ہے۔
گھروں میں قربانی کے جانوروں کی خاص دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔۔۔ انہیں پانی پلایا جا رہا ہے، پنکھوں اور کولرز کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ کئی مقامات پر جانوروں کیلئے خصوصی خوراک بھی تیار کی جا رہی ہے۔
بچوں کا کہنا ہے کہ وہ پورا سال عید قرباں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اپنے پسندیدہ جانور خرید سکیں اور ان کے ساتھ وقت گزار سکیں۔
سوشل میڈیا پر بھی قربانی کے جانوروں کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔۔۔ کہیں بچے اپنے بکروں کے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں تو کہیں انہیں مخصوص انداز میں سجا کر وی لاگز تیار کیے جا رہے ہیں۔
کئی گھروں میں بکرے اور چھترے محلے بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جبکہ بچے اپنے جانوروں کی خوبیاں فخر سے ایک دوسرے کو بتاتے دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عید قرباں بچوں کیلئے صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ جذبات، محبت اور ذمہ داری سیکھنے کا بھی موقع ہوتا ہے۔۔۔ قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال بچوں میں جانوروں سے محبت اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرتی ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی خوشی کیلئے وہ جانوروں کی خاص دیکھ بھال کرتے ہیں کیونکہ عید قرباں کی اصل رونق ہی بچوں اور قربانی کے جانوروں سے جڑی ہوتی ہے۔












