اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وفاقی آئینی عدالت میں بچوں کے اغوا کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی ،عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے استفسار کیا بتایا جائے کتنے بجے بھیک مانگتے ہیں ؟ کتنے بچے مزدوری کرتے ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا حکومت کو بچوں کے حوالے ڈیٹا تیار کرنا چاہیے، بچوں سے جبری مشقت کروائی جا رہی ہے، آٹھ سے دس سال کے بچے سرعام مزدوری کرتے ہیں ۔ بچوں سے بھیک منگوانے والے ٹھیکیدار پیسے کماتے ہیں،
جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ان بچوں کو اٹھا لیں، پچیس سال پہلے کراچی میں مہم چلی تو بچوں کو پولیس نے پکڑ لیا ،مزدوری کرنے والے بچوں کی پاس بھی وجوہات بھی ہوتی ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا حکومت کو کوئی شیلٹر ہوم بنانےچاہیئں ،شیلٹر ہوم میں بچوں کو مختلف کام سکھائے جائیں۔ ابھی تک بچیوں کے اغوا میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں ہوئی
یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں غذائی بحران سنگین،90 فیصد بچے متاثر
عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے تفصیلی رپورٹس طلب کرتے ہوئے مزید سماعت دو ماہ کیلئے ملتوی کردی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔












