از : سہیل شہریار
دنیا کے مقبول ترین کھیل فٹ بال کا 23 ورلڈ کپ جمعرات، 11 جون سے اتوار، 19 جولائی 2026 تک ہوگا۔ ٹورنامنٹ کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکوکریں گے۔فٹبال کے اس اب تک کے سب سے بڑے عالمی کپ میں 48 ٹیمیںحصہ لیں گی۔ جن کے درمیان 39 دنوں میں 104 میچ کھیلے جائیں گے۔
فیفا کے جاری کردہ فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے دلچسپ حقائق اور اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2026 کا ورلڈ کپ 48 ٹیموں کے ساتھ ہونے والا پہلا ورلڈ کپ ہو گا۔اس سے قبل 2022 میں قطر میں ہونے والے عالمی کپ میں یہ تعداد 32 تھی۔فٹبال ورلڈ کپ کے میچز کینیڈا، میکسیکو اور امریکہ بھر میں 16 مقامات پر منعقد ہوں گے۔
گروپ مرحلے کے لیے شریک ٹیموں کو چار ٹیموں کے بارہ گروپس میں تقسیم کیا جائے گا۔ہر گروپ سے سرفہرست دو ٹیمیں اور آٹھ بہترین تیسری پوزیشن والی ٹیمیں پہلی بار متعارف کروائے گئے راؤنڈ آف 32 میں جائیں گی۔گروپ مرحلے کے بعد تمام میچز ناک آؤٹ فارمیٹ میں ہوں گے۔یو ں ٹورنامنٹ کے دوران کل 104 میچ کھیلے جائیں گے۔ جن کی 2022 کے ایڈیشن میں تعداد 64 تھی۔فٹبال کے عالمی مقابلوں میں اس شب سے بڑے ٹورنامنٹ کے لئے5 دسمبر 2025 کو فائنل ڈرا اور 31 مارچ 2026 کو فائنل کوالیفائنگ میچوں کاشیڈول طے ہونےکے بعد 2026 ورلڈ کپ گروپس کو حتمی شکل دی گئی۔
فیفا نے ورلڈ کپ 2026کے لئے 11 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی کی توقع ظاہر کی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ 104 میچوں کے ساتھ 48 ٹیموں کے ٹورنامنٹ میں کھیلے جانے والے میچوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ اسسے پہلے قطر میں 2022 کے ورلڈ کپ میں بھی ریکارڈ 7.57 ارب ڈالرکی آمدن ہوئی تھی۔ آمدن میں متوقع ریکارڈ اضافے کے ساتھ فیفا نے ٹورنامنٹ کی انعامی رقم اور اس میں حصہ لینے والی ٹیموں کے لئے رقوم میں بھی ریکارڈ اضافہ کر دیا ہے۔اب2026 فیفا ورلڈ کپ میں حصہ لینے والی 48 قومی ٹیموں میں تقسیم کیے گئے871 ملین ڈالر کی ریکارڈ رقم کا پول بنایا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے چیمپیئنز کو 50 ملین ڈالرز کی رقم ملے گی، جبکہ ہر کوالیفائیڈ ٹیم کو صرف شرکت کے لیے کم از کم 12.5 ملین ڈالر ملنے کی ضمانت دی گئی ہے۔
فیفا نے حسب روایت ورلڈ کپ 2026کو امریکہ کے لیے سیاحت کو فروغ دینے والا قرار دیا تھا ۔مگر امریکن ہوٹل اینڈ لاجنگ ایسوسی ایشن (اے ایچ ایل اے) کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں پتا چلا ہے کہ تقریباً ہر میزبان شہر میں بکنگ توقعات سے کم ہے۔جس کے نتیجے میںاے ایچ ایل اے نے الزام عائد کیا ہے کہ فیفاکا پچاس لاکھ سے زیادہ ٹکٹ فروخت ہونے کا بیان ہوٹل بکنگ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اے ایچ ایل اےامریکہ کی سب سے بڑی ہوٹل ایسوسی ایشن ہے، جو 32,000 سے زیادہ پراپرٹیز اور تما م فیفا فرنچائزڈ ہوٹلوں میں سے 80فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرتی ہے۔تنظیم نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ امریکہ کی ہوٹل اور لاجنگ انڈسٹری کے ساتھ سیاحت کے فروغ کے لئےنقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا ائر بی این بی کا کہنا ہے کہ فٹبال ورلڈ کپ اسکی تاریخ کا سب سے بڑا ہوسٹنگ ایونٹ بننے جا رہا ہے۔ جس نے پیرس میں 2024 کے اولمپک اور پیرا اولمپک گیمز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ ہوٹلوں کو ناک آؤٹ راؤنڈز میں فائدہ حاصل کرنے پر انحصار کرنا پڑ ےگا۔ جب شائقین کو مختصر نوٹس پر بکنگ کرنی پڑتی ہے۔تاہم ایسا لگتا ہے کہ ورلڈ کپ سے وہ آمدنی حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے جس کی پیش گوئی کی جارہی تھی۔











