لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ میں جہیز کے سامان کے دعوے میں فیملی کورٹ میں ٹرائل کی کارروائی روکنے کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے دیپالپور کے رہائشی محمد ارشد کی درخواست پر سماعت کی ۔عدالت نے ریمارکس دیئے ایک عورت کی اور کتنی تذلیل کرنی ہےاپ ایک عورت کو اور کتنی سزا دینا چاہتے ہیں۔اگر اسکی شادی نہیں چل سکی تو اسکی کتنی کڑی سزا دینا چاہتے ہیں ،۔اپ نے فیس لے لی ہے ،اپکا فرض بنتا ہے معاملے کو حل کرائیں ۔بطور وکیل اپ اس پوزیشن میں ہیں کہ معاملے کو سلجھا سکیں ۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریماکس دیئےذرا یہ سوچیں کہ اگر سامان جہیز شوہر کو ملنا ہوتا تو پھر کیا صورتحال ہوتی۔ یہی دعویٰ شوہر کی طرف سے دائر ہوتا کہ میرا سامان جہیز واپس کرو ۔شادی ختم ہوگئی ہے تو کیا سامان جہیز واپس نہیں کرنا ؟ہم ائندہ ہفتے کے لیے نوٹس جاری کہ جواب مانگ لیتے ہیں یہ معاملہ یہی حل ہوجائے گا۔
عدالت نے ریمارکس دیئےاگر نارمل حالات میں یہ کیس آتا چھ سال بعد باری آنی تھی ،سوچیں تب تک اس عورت کے سامان کا کیا بننا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیئےفریقین کی 2013 میں شادی ہوئی کچھ عرصے بعد علیدگحی ہوگئی۔خاتون نے فیملی کورٹ میں سامان جہیز اور بچے کے خرچے کے لیے دعوا دائر کیا،فیملی کورٹ نے ہمارا تحریری جواب جمع ہوئے بغیر ٹرائل پر کارروائی شروع کردی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپ ٹرائل کورٹ کی کارروائی روک دیں ۔عدالت نے درخواست پر مزید کارروائی ائندہ ہفتے تک ملتوی کردی












