انقرہ ( پاک ترک نیوز) ترکیہ کی دفاعی صنعت نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی،استنبول میں دفاعی نمائش ساہا میں پہلی بارچھ ہزار کلو میٹر تک مار کرنے والا جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل متعارف کرا دیا ۔
میزائل یلدرم ہان آواز کی رفتار سے پچیس گنا تیز رفتاری سے ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میزائل میں مائع ایندھن کا جدید نظام استعمال کیا گیا ہے اور یہ چار راکٹ انجنوں پر مشتمل ہے۔
ترکی وزارتِ دفاع کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کی جانب سے تیار کردہ اس میزائل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ میک 25 تک رفتار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس کی رینج تقریباً 6 ہزار کلومیٹر ہے۔
حکام کے مطابق یلدرم ہان سسٹم مائع نائٹروجن ٹیٹرو آکسائیڈ کو بطور ایندھن استعمال کرتا ہے اور چار راکٹ انجنز سے لیس ہے، جس کے باعث اسے ترکی کے اب تک کے جدید ترین میزائل پلیٹ فارمز میں شمار کیا جا رہا ہے۔میزائل ’ساہا انٹرنیشنل ڈیفنس اینڈ ایرو اسپیس ایگزیبیشن‘ میں پیش کیا گیا، جہاں ترکی کی بڑی دفاعی کمپنیوں اور سرکاری اداروں نے مختلف شعبوں میں نئی ٹیکنالوجیز کی نمائش کی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی اپنی دفاعی صنعت کو وسعت دینے کے لیے میزائل سسٹمز، بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز، فضائی دفاع، ہوا بازی اور خلائی ٹیکنالوجی میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ترکیہ ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل نظام، فضائی دفاع، ہوابازی اور خلائی منصوبوں میں اپنی صلاحیتوں کو مسلسل وسعت دے رہا ہے۔ترکیہ گزشتہ برسوں میں اپنی دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی پالیسی پر گامزن ہے اور جدید ہتھیاروں کی تیاری پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ملکی دفاعی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کرنا اور عالمی دفاعی منڈی میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانا ہے۔
ساہا نمائش خطے کی اہم دفاعی تقریبات میں شمار ہوتی ہے جہاں عالمی دفاعی کمپنیاں، فوجی وفود اور خریداری کے ذمہ دار حکام شریک ہوتے ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے جدید میزائل کی نمائش کو دفاعی میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو آنے والے وقت میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
عالمی سطح پر دفاعی توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بڑی طاقتیں جدید ہتھیاروں کی دوڑ میں مصروف ہیں، اور ایسے میں ترکیہ کا "یِلدِرم ہان” جیسے میزائل متعارف کروانا اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے درمیان سکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں، ترکیہ کی یہ صلاحیت اسے ایک اسٹریٹیجک اہمیت فراہم کرتی ہے۔
تاہم، اس ترقی کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ کیا اس طرح کے جدید ہتھیار خطے میں اسلحہ کی دوڑ کو مزید تیز کریں گے؟ کیا یہ پیش رفت دفاعی توازن کو بہتر بنائے گی یا نئی کشیدگیوں کو جنم دے گی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں دفاعی طاقت صرف جنگی صلاحیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ملک کی تکنیکی ترقی، معاشی استحکام اور عالمی اثر و رسوخ کی علامت بھی بن چکی ہے۔ ترکیہ کا حالیہ اقدام اسی سمت میں ایک بڑا قدم ہے، جو اسے نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی دفاعی منظرنامے میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر مزید مستحکم کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ "یِلدِرم ہان” صرف ایک میزائل نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ایک ایسا پیغام جو ترکیہ کی بڑھتی ہوئی خوداعتمادی، تکنیکی مہارت اور عالمی سطح پر اپنے مقام کو مضبوط بنانے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔












