لاہور( پاک ترک نیوز) گرمیاں شروع ہوتے ہی جہاں سورج کی تپش شدت اختیار کر لیتی ہے، وہیں مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تیز دھوپ، پسینہ، آلودہ پانی اور غیر معیاری خوراک انسانی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں اگر احتیاط نہ کی جائے تو یہ موسم کئی خطرناک بیماریوں کو جنم دے سکتا ہے۔
شدید گرمی میں زیادہ دیر رہنے سے جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے، جس سے بے ہوشی، چکر اور حتیٰ کہ موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔پسینے کے ذریعے جسم سے پانی اور نمکیات کے اخراج کے باعث کمزوری، تھکن اور سر درد جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
آلودہ پانی اور غیر معیاری کھانوں کے باعث اسہال، ہیضہ، اور فوڈ پوائزننگ عام ہو جاتی ہے۔گرمی اور پسینے کی وجہ سے خارش، گھموری اور فنگل انفیکشن بڑھ جاتے ہیں۔یہ بیماریاں بھی عموماً آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے پھیلتی ہیں۔
گرمیوں کی بیماریوں سے بچنے کے لیے چند سادہ مگر مؤثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں روزانہ کم از کم 8 سے 10 گلاس صاف اور ٹھنڈا پانی پینا چاہیے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔
دوپہر 12 سے 4 بجے کے درمیان غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو سر ڈھانپ کر نکلیں۔
بازار کی کھلی اشیاء، باسی کھانے اور غیر معیاری مشروبات سے پرہیز کریں۔ ہمیشہ تازہ اور گھر کا بنا ہوا کھانا استعمال کریں۔
سوتی اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں تاکہ جسم کو ٹھنڈک ملے اور پسینہ کم آئے۔
ہاتھوں کو بار بار دھونا، خاص طور پر کھانے سے پہلے اور بعد میں، بیماریوں سے بچنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
لیموں پانی، نمکول یا اور آر ایس جیسے مشروبات جسم میں نمکیات کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔تربوز، خربوزہ، کھیرا اور دیگر پانی سے بھرپور پھل گرمی میں نہایت مفید ہوتے ہیں۔
گرمیوں کا موسم اپنی شدت کے ساتھ کئی بیماریوں کو بھی ساتھ لاتا ہے، لیکن اگر ہم بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو ان سے بڑی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی روزمرہ عادات میں بہتری لائیں اور صفائی، متوازن خوراک اور مناسب طرزِ زندگی کو اپنائیں۔گرمی سے بچاؤ دراصل احتیاط میں ہی پوشیدہ ہے اور احتیاط ہی بہترین علاج ہے۔












