لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ روزانہ کافی پیتے ہیں؟اگر ہاں تو یہ خبر آپ کے لیے خوشخبری بھی ہو سکتی ہے اور وارننگ بھی،ایک تحقیق کے مطابق روزانہ دو سے تین کپ کافی نہ صرف آپ کو چست رکھتی ہے بلکہ ذہنی امراض سے بھی بچا سکتی ہے۔لیکن احتیاط،زیادہ کافی فائدہ نہیں بلکہ نقصان بھی دے سکتی ہے۔
صبح کی شروعات کافی کے بغیر ادھوری لگتی ہےلیکن اب یہ صرف ایک عادت نہیں… بلکہ ذہنی صحت کا راز بھی بن سکتی ہے۔ کافی میں موجود کیفین دماغ کے ایک خاص نظام پر اثر ڈالتی ہے۔یہ ریسیپٹرز عام طور پر نیند اور تھکن پیدا کرتے ہیں ،۔کیفین ان کو بلاک کر دیتی ہے ،اس کے نتیجے میں دماغ زیادہ چست، فوکسڈ اور الرٹ ہو جاتا ہے اسی وجہ سے کافی وقتی طور پر موڈ بہتر کرتی ہے ،تھکن کم کرتی ہے ،توجہ بڑھاتی ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق روزانہ دو سے تین کپ کافی پینا ذہنی امراض کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔،لیکن جو لوگ روزانہ پانچ یا اس سے زیادہ کپ کافی پیتے ہیں ان میں ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،یعنی کافی فائدہ بھی اور نقصان بھی سب کچھ مقدار پر منحصر ہے۔
ماہرین نے برطانیہ کے کے 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔40 سے 69 سال کی عمر کے افراد پر کی گئی اس تحقیق کو13 سال سے زائد عرصے تک فالو کیا گیا۔،اس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ نہ بہت کم اور نہ بہت زیادہ کافی بہترین انتخاب ہے۔ کافی میں موجود کیفین اور دیگر اجزاء دماغی سوزش کو کم کرتے ہیں۔جو ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل کے خطرے کو کم کر سکتے ہیں۔
کافی میں ایک ہزار سے زائد بائیو ایکٹو اجزاء پائے جاتے ہیں،جن میں کیفین، پولی فینولز اور کلوروجینک ایسڈ شامل ہیں۔یہ اجزاء نہ صرف دماغ کو متحرک رکھتے ہیں بلکہ اسٹریس اور ذہنی دباؤ کے خلاف ایک “قدرتی ڈھال” کا کام بھی کرتے ہیں۔یہ فائدہ مردوں میں زیادہ واضح دیکھا گیا
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افرادذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ایسے میں اگر ایک سادہ سی عادت ۔یعنی کافی پینا ۔کچھ حد تک تحفظ دے سکتی ہےتو یہ ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔
لیکن یاد رکھیںہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے،کافی بھی زیادہ پیئیں گے تو نقصان ہو سکتا ہے
تو اگلی بار جب آپ کافی کا کپ اٹھائیں تو مقدار ضرور ذہن میں رکھیںکیونکہ صحت کا راز شاید اسی کپ میں چھپا ہومگر صرف تب جب آپ اسے سمجھداری سے استعمال کریں۔









