نیو یارک ( پاک ترک نیوز) جنابِ صدر، آپ کے بیان کا شکریہ۔ میں اپنے بیان میں بالکل واضح کرنا چاہتا ہوں ،، بالکل واضح کہ امریکا، بحرین کے عوام اور خلیجی ممالک کے عوام کے ساتھ اس فیصلہ کن لمحے میں کھڑا رہے گا۔
ساتھیو۔ یہ انتخاب کا وقت ہے۔ جو ممالک اس قرارداد کی مخالفت کر رہے ہیں، جس کی قیادت مملکتِ بحرین نے کی، انہوں نے ایک طرف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ صرف تین ہفتے قبل، اس کونسل نے ایک ایسی قرارداد منظور کی جس نے اقوامِ متحدہ کی تاریخ میں ریکارڈ قائم کیا 136 شریک ممالک، اور ایک بھی مخالفت نہیں۔ اس قرارداد میں واضح مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران فوری طور پر اپنے حملے اور دھمکیاں بند کرے، اور آبنائے ہرمز میں شہری جہازرانی میں رکاوٹ ڈالنے کی مذمت کی گئی تھی۔
ہم آج یہاں اس لیے ہیں کیونکہ ایران کی حکومت کئی دہائیوں سے امریکی عوام، ہمارے اتحادیوں اور عالمی تجارتی جہازوں پر حملے بڑھا رہی ہے اور یہ سب بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ چار سال پہلے، اسی حکومت نے درجنوں امریکیوں کو یرغمال بنایا۔ اور آج وہ آبنائے ہرمز کو یرغمال بنا کر پوری عالمی معیشت کو داؤ پر لگا رہی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔ وہ تجارتی جہازوں پر فائرنگ کر رہا ہے۔ یہ جہاز تیل، کھاد، ادویات اور ضروری اشیاء لے جا رہے ہیں۔
یہ اقدامات دنیا کو توانائی بحران، سپلائی چین کی تباہی، اور حتیٰ کہ قحط کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ایران نے جان بوجھ کر اس جنگ کو خلیج تک پھیلایا ہے۔ متحدہ عرب امارات پر 500 سے زائد بیلسٹک میزائل، 2000 سے زائد ڈرونز، اور کروز میزائل فائر کیے گئے۔ وہ بھی فوجی اہداف پر نہیں بلکہ ہوٹلوں، بندرگاہوں اور شہری علاقوں پر۔ بحرین بھی ہزاروں میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اب ایران کا علاقہ ہے۔ یعنی یہ عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کھلی کوشش ہے۔ آج اس راستے سے امدادی قافلے بھی نہیں گزر سکتے۔ کانگو، سوڈان اور غزہ کے لیے امداد رکی ہوئی ہے۔ لیکن افسوس آج روس اور چین نے اس سب کو برداشت کیا اور اس قرارداد کو ویٹو کر دیا۔ یہ ممالک ایک ایسے نظام کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں جو نہ صرف اپنے عوام کو دباتا ہے بلکہ دنیا کو بھی دھمکاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً نصف صدی سے ایران دہشتگردی، خوف اور عدم استحکام کو فروغ دیتا آیا ہے۔ اس نے امریکی سفارتخانوں پر حملے کیے، سینکڑوں افراد کو قتل کیا، اور حتیٰ کہ امریکی صدر کے قتل کی سازشیں بھی کیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، ایران ہسپتالوں اور اسکولوں میں فوجی سامان چھپاتا ہے۔ اور اب بچوں کو بھی جنگ میں جھونک رہا ہے۔
ساتھیو۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ امن ایران کے لیے خطرہ ہے۔ خلیجی ممالک جیسے دبئی، دوحہ، منامہ اور ریاض ایک بہتر مستقبل کی مثال ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس سے ایران خوفزدہ ہے۔ آج کچھ ممالک نے اس بہتر مستقبل کے راستے میں رکاوٹ ڈالی۔ لیکن امریکا نے اس مستقبل کے تحفظ کے لیے ووٹ دیا۔
جنابِ صدر، ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ اس وقت آپ کے عوام، ہمارے اتحادی، اور امریکی فوجی ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہیں۔ انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن آج کا ویٹو ایک نئی نچلی سطح کو ظاہر کرتا ہے اور یہ دکھاتا ہے کہ ایک محفوظ اور مستحکم مشرقِ وسطیٰ کچھ طاقتوں کے لیے کتنا خوفناک ہے۔












