لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ زمین سے لاکھوں کلو میٹر دو ہوں ،اور پوری دنیا سے رابطہ اچانک منقطع ہو جائے،یہ کوئی فلم نہیں حقیقت ہے کہ خلا میں جانے والوں کا رابطہ اچانک بند ہو گیا ،چند منٹوں تک خلا باز مکمل تنہائی میں چلے گئے۔
جیسے ہی اسپیس کرافٹ چاند کے پیچھے گیا، زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی سگنل، نہ کوئی پیغام۔ پورے چالیس منٹ تک خلا باز مکمل خاموشی اور تنہائی میں رہے۔
یہ 40 منٹ محض ایک تکنیکی وقفہ نہیں تھا بلکہ ایک نفسیاتی اور انسانی تجربہ بھی تھا۔ زمین پر موجود مشن کنٹرول بے بسی سے انتظار کرتا رہا، جبکہ خلا میں موجود چار انسان اپنی ہمت اور اعتماد کے سہارے آگے بڑھتے رہے۔
چاندکے پیچھے چالیس منٹ تک خاموشی ،پوری دنیا کی سانسیں رکی ہوئی تھیں، دل دھڑک رہے تھے ،جی ہاں امریکی خلائی مشن کے دوران ایک ایسا لمحہ آیا کہ خلا بازوں کا چالیس منٹ تک رابطہ منقطع رہا۔
یہ چالیس منٹ صرف ٹیکنالوجی نہیں۔بلکہ اعصاب اور ہمت کا امتحان تھا ۔پھر اچانک خاموشی ٹوٹ گئے ،سگنلز واپس آ گئے ،رابطہ بحال ہو گیا اور پوری دنیا نے سکھ کاسانس لیا ،خلاباز محفوظ تھے ۔ یہ لمحہ جہاں ایک طرف سائنسی کامیابی تھا، وہیں دوسری طرف ایک گہرا انسانی تجربہ بھی۔
زمین سے رابطہ بحال ہونےپر خلابازوں نے تاریخ رقم کرتے ہوئے سات گھنٹوں تک چاند کا چکر لگایا ،تصاویر بھی لیں ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلائی مشن سے رابطہ کیا اورچاند کے گرد کامیابی سے چکر لگانے پرمبارکباد دی،اوول آفس آنے کی دعوت بھی دی۔












