
از: سہیل شہریار
86سالہ سید علی خامنہ ای کی اسرائیلی حملے میں شہادت سے خامی ہونے والے ایران کے رہبر اعلیٰ یا سپریم لیڈر کے انتخاب کے لئے ماہرین کی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔ جو آئندہ دو سے تین روز میں نئے راہنما کا اعلان کرے گی۔
ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب ماہرین کی اسمبلی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ 88 رکنی جید علما کا ادارہ ہے جسے عوام ہر آٹھ سال بعد منتخب کرتے ہیں۔اسمبلی کے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سب سے پہلے ایک طاقتور نگران ادارہ گارڈین کونسلسے جانچ پڑتال اور منظوری لیناپڑتی ہے۔ جس کے اراکین کو جزوی طور پر سپریم لیڈر خود مقرر کرتا ہے۔
جب موت یا استعفیٰ کی وجہ سے رہبر اعلیٰ یا سپریم لیڈر کا عہدہ خالی ہو جاتا ہے۔ توجانشین کے انتخاب کے لیے ماہرین کی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاتا ہے۔ نئے سپریم لیڈر کی تقرری کے لیے سادہ اکثریتیعنی 45ووٹ ہی کافی ہوتے ہیں ۔
ایرانی آئین کےتحت سپریم لیڈر کے امیدوار کو تمام علوم دینیہ کا ماہر اور خصوصاً شیعہ فقہ پر کامل دسترس کا حامل سینئر فقیہ ہونا ضروری ہے۔اسی کے ساتھ امیدوار کو سیاسی فیصلہ سازی، جرأت اور اعلیٰ انتظامی صلاحیت جیسی خصوصیات کا حامل ہونا چاہیے۔
ایران کےولایت فقیہ کے نظام کے تحت اسلامی جمہوریہ کے سیاسی اور مذہبی تنظیمی ڈھانچے میں رہبر اعلیٰ یا سپریم لیڈر اعلیٰ ترین مقام ہے۔وہ مسلح افواج کا کمانڈر انچیف اور ملک کے ہر معاملے میںحتمی فیصلے کا اختیار رکھتا ہے۔ وہ تمام اہم عدالتی، فوجی اورانتظامی حکام کا تقرر کرتا ہے۔ وہ طاقتور پاسداران انقلاب گارڈز کی قیادت بھی کرتا ہے۔
ایران میں شاہ کی حکومت کے خاتمے پر منتج ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد سامنے آنے والے نظام میں اب تک صرف ایک مرتبہ 1989میں امام خمینی کی وفات پر انکے جانشین سید علی خامنہ ای کا انتخاب کیا گیا ہے ۔ اور اب انکی شہادت کے بعد اس عہدے کے لئے انکے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای، جید عالم دین اور عبوری کونسل کے رکن آیت اللہ علی رضا عرافی اور ملک کے سابق انٹیلی جنس کے وزیر اور موجودہ چیف جسٹسغلام حسین محسنی ایجی نمایا ں امیدوار ہیں ۔انکے علاوہ امام خمینی کے پوتے حسن خمینی اور محمد مہدی میرباغیری کے نام بھی لئےجا رہے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ماہرین کی کونسل نے سپریم لیڈر کے لئے مجتبیٰ خامنہ ای کا اانتخاب کر لیا ہے ۔ مگر ایرانی میڈیا کے بعد اب پاسداران انقلاب گارڈز کی قیادت نے بھی اس کی تردید کردی ہے۔ اور توقع کی جارہی ہے کہ انتخابی عمل آئندہ 48سے72گھنٹوں میں مکمل ہوگا۔












