تہران: (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ کے اوپر ایک خطرناک طوفان منڈلا رہا ہے اور اس طوفان کا مرکز ہے ایران اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ آخری ٹکراؤ۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے اندازوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اگر ایران کو محسوس ہوا کہ اس کی بقاء خطرے میں ہے۔ خاص طور پر کسی ایرانی قیادت میں بڑے حملے کی صورت میں تو وہ اپنا پورا میزائل ذخیرہ ایک ہی وقت میں داغ سکتا ہے۔
جی ہاں، 1000 سے زائد لانگ رینج میزائل، اور ہزاروں شارٹ رینج راکٹس سب ایک ساتھ۔
یہی وہ خوف ہے جس نے امریکا کو خطے میں اپنی ایئر ڈیفنس مزید مضبوط کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ خاص طور پر اردن میں، کیونکہ ایران سے اسرائیل تک آنے والے بیلسٹک میزائلوں کا سب سے تیز راستہ عراق کے بعد اردن کی فضاؤں سے گزرتا ہے۔
لیکن کہانی کا سب سے خطرناک پہلو ابھی باقی ہے۔ امریکی اور اتحادی افواج کی پہلی حکمت عملی کیا ہوگی؟ ایران کے میزائل لانچرز کو جنگ کے آغاز میں ہی تباہ کرنا تاکہ میزائل فائر ہی نہ ہو سکیں۔
یہ ایک ایسی ریس ہے جس میں سیکنڈز کی تاخیر بھی شہروں کو ملبے میں بدل سکتی ہے۔
سوال یہ ہے: کیا ایران واقعی اپنی بقاء کے لیے سب کچھ داؤ پر لگا دے گا؟ کیا اسرائیل کا آئرن ڈوم اور امریکی دفاعی نظام اس طوفان کو روک پائے گا؟ یا مشرقِ وسطیٰ ایک ایسی آگ میں جل اُٹھے گا جس کے شعلے پوری دنیا تک پہنچیں گے؟ فیصلہ کن لمحہ قریب ہے۔ میزائل تیار ہیں۔ دفاعی نظام الرٹ پر ہے اور دنیا سانس روکے اس ممکنہ تباہی کا انتظار کر رہی ہے۔












