انقرہ: (پاک ترک اردو ) 2025 میں ترکی کی دفاعی صنعت ایک اور کامیاب اور تاریخ ساز سال کے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں مقامی دفاعی کمپنیوں نے نہ صرف نئے ریکارڈ قائم کیے بلکہ کئی عالمی سطح کے ورلڈ فرسٹ کارنامے بھی انجام دیے۔
ان کمپنیوں نے اپنی عالمی رسائی کو وسعت دی، جدید ٹیسٹ کیے اور مستقبل کی جنگی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ دنیا بھر میں تسلیم شدہ ترک دفاعی صنعت نے جدید اور مستقبل کی جنگی حکمتِ عملیوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی ضروریات پر کام کیا، جبکہ موجودہ دفاعی نظاموں کی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا۔
جنوری سے دسمبر تک دفاعی کمپنیوں کا شیڈول نئے ٹیسٹس، پروازوں اور برآمدی معاہدوں سے بھرپور رہا، جس کے نتیجے میں دفاعی اور ایرو اسپیس شعبے کی برآمدات نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔
دسمبر کے اعداد و شمار سامنے آنے پر یہ حجم ممکنہ طور پر 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ نومبر میں برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 747 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ 11 ماہ میں مجموعی برآمدات تقریباً 7.45 ارب ڈالر رہیں، جو کہ پورے 2024 کے 7.2 ارب ڈالر کے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہیں۔
سال کے اختتام پر دو بڑے معاہدوں نے کامیابیوں کو چار چاند لگا دیے۔ ایک طرف اسیل سان (Aselsan) نے پولینڈ کے ساتھ 410 ملین ڈالر کا الیکٹرانک وارفیئر کا معاہدہ کیا، جبکہ ترک ایئرواسپیس انڈسٹریز (TAI) نے اسپین کے ساتھ 3 ارب ڈالر سے زائد کا معاہدہ طے کیا، جس کے تحت 30 جدید ہُرجیٹ (Hürjet) طیارے فراہم کیے جائیں گے۔
سال کے آغاز میں، اسیل سان کے قومی الیکٹرانک سپورٹ سسٹم ANTIDOT 2-U/S کا Bayraktar TB2 ڈرون پر کامیاب تجربہ کیا گیا۔
جنوری ہی میں TAI کے تیار کردہ انکا ڈرون نے 15 ہزار فٹ کی بلندی سے روکیٹسان کے L-UMTAS میزائل کے ذریعے ہدف کو مکمل درستگی سے نشانہ بنایا۔ اسی ماہ ترکی کے پہلے فلائنگ وِنگ اسٹرائیک ڈرون انکا-3 نے کامیابی سے اسلحہ گرانے کا ٹیسٹ بھی مکمل کیا۔
فروری میں روکیٹسان کے تیار کردہ مقامی بیلسٹک میزائل Tayfun نے ریزے میں ہدف کو نہایت درستگی سے نشانہ بنایا۔اسی ماہ ترکی کے پہلے بی وی آر ایئر ٹو ایئر میزائل Gökdoğan کا کامیاب تجربہ ہوا، جبکہ T625 گوک بے ہیلی کاپٹر نے سخت سرد موسم میں کامیاب ٹیسٹس مکمل کیے۔
اسی دوران Bayraktar TB2T-AI، جدید مصنوعی ذہانت اور ٹربو انجن سے لیس ڈرون، نے آزمائشی پروازیں شروع کیں۔مارچ میں Bayraktar Kızılelma، ترکی کے پہلے بغیر پائلٹ جنگی طیارے، نے ایروڈائنامک ٹیسٹس کامیابی سے مکمل کیے اور بعدازاں جیٹ انجن ڈرونز کی دنیا کی پہلی مکمل خودکار قریبی فارمیشن فلائٹ بھی انجام دی۔
اسی ماہ Bayraktar Akıncı نے Aselsan کے Murad AESA ریڈار کے ساتھ پہلی پرواز کی۔اپریل میں Aksungur ڈرون نے 40 ہزار فٹ کی بلندی حاصل کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا، جبکہ Hürjet نے 1.2 میک کی رفتار سے آواز کی دیوار توڑ دی۔جون میں صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا کہ انڈونیشیا ترکی کے پانچویں نسل کے جنگی طیارے Kaan کا پہلا خریدار بن گیا ہے، جس کے تحت 48 طیارے ترکی میں تیار ہو کر انڈونیشیا کو برآمد کیے جائیں گے۔
ستمبر میں Bayraktar TB3 دنیا کا پہلا ڈرون بن گیا جو مختصر رن وے والے بحری جہاز پر مکمل خودکار ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت کے ساتھ سروس میں شامل ہوا۔اکتوبر میں Altay مین بیٹل ٹینک کی پہلی کھیپ ترک مسلح افواج کے حوالے کی گئی۔نومبر میں Kızılelma نے تاریخ رقم کی، جب اس نے دنیا میں پہلی بار ایک جیٹ طاقت سے اڑنے والے فضائی ہدف کو بی وی آر میزائل سے نشانہ بنایا۔
اسی ماہ 6.5 ارب ڈالر کے بڑے دفاعی پیداواری معاہدوں پر دستخط ہوئے۔مجموعی طور پر 2025 ترکی کی دفاعی صنعت کے لیے ایک تاریخی سال ثابت ہوا، جس نے نہ صرف ٹیکنالوجی میں خودانحصاری کو مضبوط کیا بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں ترکی کو صفِ اول کے ممالک میں لا کھڑا کیا۔









