واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکا نے ایرانی پانیوں کے قریب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر اپنے بحری جہازوں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ امریکی میری ٹائم ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت ایران کے علاقائی پانیوں سے حتی الامکان دور رہیں۔
یہ ہدایات واشنگٹن اور تہران کے درمیان عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد سامنے آئی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی تلخ بیانات اور جنگی دھمکیوں کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔
ایڈوائزری میں امریکی جہازوں کے کپتانوں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایرانی فورسز کو اپنے جہازوں پر سوار ہونے کی اجازت نہ دیں۔ تاہم اگر ایرانی اہلکار کسی امریکی تجارتی جہاز پر سوار ہو جائیں تو عملے کو زبردستی مزاحمت نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق، مزاحمت نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ جہاز سوار ہونے کی اجازت یا رضامندی دی جا رہی ہے۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ مشرق کی جانب سفر کرنے والے امریکی جہاز آبنائے ہرمز میں عمان کے علاقائی پانیوں کے قریب سے گزریں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے، بشرطیکہ جہاز رانی کی سلامتی متاثر نہ ہو۔
آبنائے ہرمز کو دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہ قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ یہ خلیجی ممالک کو عالمی منڈی سے جوڑتی ہے۔ ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی بحری راستے خطرے میں رہے ہیں۔
ٹرمپ نے دسمبر میں کہا تھا کہ اگر ایران اپنے جوہری اور میزائل پروگرام دوبارہ فعال کرتا ہے تو امریکا حملہ کرے گا۔ایران کا کہنا ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں غیر ریاستی گروہوں کی حمایت جیسے معاملات بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔
ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ یورینیم افزودگی اس کا خودمختار حق ہے اور یہ این پی ٹی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں، جبکہ امریکا صفر افزودگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ جوہری افزودگی پر حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے اور ممکن ہے وہ اپنی شرائط مذاکرات میں خفیہ رکھیں۔












