واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکا اور ایران جمعہ کو ترکیہ میں اپنے جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکا کے جنگی جہاز ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں، اور اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو "برا وقت” آنے کا امکان ہے۔
امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے جوہری پروگرام کے طویل تنازع پر سفارتکاری کو دوبارہ بحال کیا جا سکے اور کسی نئے علاقائی جنگ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک کے نمائندے بھی اس میں شریک ہوں گے۔
ایران میں گزشتہ ماہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن کے بعد امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے، جو 1979 کی انقلاب کے بعد ایران میں سب سے مہلک داخلی بدامنی تھی۔
ٹرمپ نے اس کریک ڈاؤن کے دوران براہِ راست مداخلت سے گریز کیا، لیکن تہران سے جوہری رعایتیں مانگیں اور اپنی بحری بیڑہ اس کے ساحل کی طرف بھیج دی۔
ایران نے طویل عرصے سے تین امریکی مطالبات مسترد کیے ہیں:یورینیم کی افزودگی صفر کر دی جائےایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیعلاقائی پراکسی گروپوں کی حمایت ختم کی جائے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اعلیٰ ایرانی حکام بیلسٹک میزائل پروگرام کو یورینیم کی افزودگی سے زیادہ بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ایران نے جوہری پروگرام روکنے یا معطل کرنے کی آمادگی کا اشارہ دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باغائی نے کہا کہ تہران مذاکرات کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہا ہے اور "وقت ایران کے لیے اہم ہے کیونکہ وہ غیر منصفانہ پابندیاں جلد ختم کرنا چاہتا ہے۔”












