انقرہ ( پاک ترک نیوز) پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ تینوں ممالک نے اگست میں ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔معاہدے کے پہلے آرٹیکل کے مطابق تینوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے۔
معاہدے کے دوسرے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی رکن ملک پر دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملہ کیا گیا تو دیگر رکن ممالک دستیاب ذرائع کے ذریعے متاثرہ ملک کی فوری مدد کریں گے۔یہ شق شمالی اوقیانوس کے معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتی ہے، جبکہ معاہدے میں اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جو مسلح حملے کی صورت میں انفرادی اور اجتماعی دفاع کا حق تسلیم کرتا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی صنعت، انٹیلی جنس کے تبادلے، رسدی معاونت اور دہشت گردی کی تمام صورتوں کے خلاف تعاون بھی بڑھائیں گے۔ترکیہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرچکا ہے اور ریاض کو فوجی ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شمولیت پر بھی اتفاق کرچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عرفات منہاس شاہد آفریدی اور عبدالرزاق کے بعد منفرد ریکارڈ بنانے والے تیسرے پاکستانی
معاہدے کی ترکیہ میں باضابطہ منظوری کے لیے پارلیمانی توثیق ضروری ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید وسعت ملنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔












