اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) صدر مملکت کی جانب سے نو ماہ بعد طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی گھنٹے بھر کی تاخیر سے شروع ہو گئی، اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے نعرے بازی شروع کر دی۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہو رہا ہے جس میں اہم قوانین کی منظوری متوقع ہے۔
اس سے قبل ایوان میں پہنچنے پر وفاقی وزیر قانون نے مولانا فضل الرحمان کا خیر مقدم کیا، اعظم نذیر تارڑ، کامران مرتضیٰ اور مولانا فضل الرحمان کی خوشگوار ماحول میں گفتگو ہوئی۔
وفاقی وزیر قانون نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل2025 پیش کیا اور کہا کہ قرآن و سنت کے منافی کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہو سکتی، جے یو آئی کو بھی اس حوالہ سے یقین دہانی کروائی ہے، اس کے باوجود کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے اس کی شق 35کو حذف کر دیا جائے، اس پہ بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ہمارے خمیر میں نہیں کہ کسی بھی صورت ایسی قانون سازی ہو جس سے قادیانی فتنے کو ہوا ملے، اقلیتی برادری بھی اتنی ہی محب وطن ہے جتنے ہم ہیں، ہم نے اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔
جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کے حقوق کا نہیں، اقلیتوں کے حقوق کیلئے ہم سب کی سوچ ایک جیسی ہے، آپ اس طرح کا قانون کیوں لاتے ہیں جس سے کل کوئی غلط فائدہ اٹھائے،
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ گورنر راج مسائل کا حل نہیں، گورنر راج کے معاملے سے اے این پی کو دور رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم گورنر راج کی مخالفت کرتے ہیں، کی ہے اور کرتے رہیں گے، ہم کبھی بھی غیر جمہوری عمل کا ساتھ نہیں دیں گے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اسلام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، یہ پارلیمان متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلام کے خلاف قانون سازی ہو، قادیانیوں کا مسئلہ بہت حساس ہے۔
بیرسٹرگوہر نے کہا کہ آج اس ایجنڈے میں آپ نے 7قوانین کو منظور کرنا ہے، چاہتے ہیں ایسی قانون سازی ہو کہ جیسے ہماری پروٹیکشن ہوتی ہے ایسی اقلیت کی ہو۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے 15 نکاتی ایجنڈے کے مطابق آج قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 منظور کیا جائے گا ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 منظورکیا جائے گا۔
اجلاس میں حیاتیاتی و زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن برائے حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024 منظور کیا جائے گا، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023 منظور کیا جائے گا۔
ایجنڈے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023 منظور کیا جائے گا، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023 منظور کیا جائے گا، گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 منظور کیا جائے گا۔
اجلاس میں صحافیوں اور میڈیا ورکز کے تحفظ کا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کمیشن کا بل، پاکستان اینیمل کونسل کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔












