لاہور( پاک ترک نیوز) رات کی شفٹ میں کام کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔ نئی تحقیق نے چونکا دینے والے انکشافات کر دیئے ۔رات کو نوکری کرنے والوں میں ذیابیطس، کولیسٹرول اور ہارمونز کے بگاڑ کا خطرہ کئی گنا بڑھ گیا۔ آخر رات کو جاگنا جسم کے لیے کتنا نقصان دہ ہے؟ دیکھیے اس رپورٹ میں۔
رات کی شفٹ میں کام کرنا بظاہر معمول کا حصہ لگتا ہے مگر ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ عادت صحت کے لیے خاموش خطرہ بن سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق رات کو جاگنے سے جسم کا قدرتی نظام یعنی سرکیڈین ردھم متاثر ہوتا ہے جس سے ہارمونز اور جسمانی توازن بگڑ جاتا ہے.
تحقیق میں انکشاف ہوا کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے 77 فیصد افراد میں انسولین مزاحمت پائی گئی جو کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کی بڑی علامت ہے.رات کو ڈیوٹی کرنے والے افراد میں خراب کولیسٹرول بڑھ جاتا ہے اور اچھا کولیسٹرول کم ہو جاتا ہے. جس سے دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق نے ہارمونز کے بگاڑ کی بھی نشاندہی کی ۔ مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون کم جبکہ خواتین میں ایسٹروجن کی سطح زیادہ دیکھی گئی.
رات کی ڈیوٹی کرنے والوں میں وٹامن ڈی کی کمی بھی عام پائی گئی جس کی بڑی وجہ دھوپ سے دوری ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ رات کی شفٹ سے مکمل بچنا ممکن نہیں لیکن احتیاطی تدابیر اپنا کر خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔مکمل نیند، متوازن غذا، زیادہ پانی، باقاعدہ ورزش اور ذہنی سکون صحت مند زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔












