کیف: (پاک ترک نیوز)یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے برطانوی نشریاتی ادارےبی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے روسی صدر پوتن پر شدید الزام عائد کیا ہے کہ وہ عملاً تیسری عالمی جنگ شروع کر چکے ہیں اور انہیں روکنے کا واحد طریقہ روس پر بھرپور فوجی اور معاشی دباؤ ڈالنا ہے۔
کیف میں صدارتی دفتر کے سخت سکیورٹی حصار کے اندر ہونے والی ملاقات میں زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین جنگ ہار نہیں رہا بلکہ بالآخر کامیاب ہوگا۔
انہوں نے روس کے اس مطالبے کو مسترد کردیا جس میں جنگ بندی کے بدلے یوکرین سے اسٹریٹجک علاقوں سے دستبرداری کا کہا جا رہا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق:”میں زمین کو صرف زمین نہیں سمجھتا۔ یہ اپنے لوگوں کو چھوڑ دینے کے مترادف ہے۔ ایسی واپسی ہماری پوزیشن کمزور کرے گی اور معاشرے کو تقسیم کر دے گی۔”
روس چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونیٹسک کے تقریباً 20 فیصد علاقے کے علاوہ خیرسون اور زاپوریژیا کے مزید حصے بھی چھوڑ دے، مگر یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ یہ وقتی طور پر پیوٹن کو مطمئن کر سکتا ہے، لیکن وہ دوبارہ طاقت حاصل کر کے چند سالوں میں نئی جنگ شروع کر دے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ:”پیوٹن یوکرین پر نہیں رکے گا، یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔”
زیلنسکی کے مطابق فتح کا مطلب صرف جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ یوکرین کی آزادی کا تحفظ، عام زندگی کی بحالی، 1991 کی سرحدوں کی بحالی ہے۔ البتہ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر تمام علاقے واپس لینے کی کوشش لاکھوں جانوں کے نقصان کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ روسی فوج بڑی ہے اور یوکرین کے پاس اس وقت اتنے ہتھیار نہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ امریکہ کی طرف سے زیادہ دباؤ یوکرین پر ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں کسی ایک صدر نہیں بلکہ امریکی اداروں کی جانب سے طویل المدتی سکیورٹی گارنٹی درکار ہے، جسے کانگریس کی منظوری حاصل ہو۔انتخابات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر جنگ ختم کرنے کی شرط یہی ہے تو انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، لیکن پہلے سکیورٹی ضمانت ضروری ہے کیونکہ لاکھوں یوکرینی پناہ گزین بیرون ملک ہیں اور ملک کا بڑا حصہ زیر قبضہ ہے۔
زیلنسکی نے شکوہ کیا کہ یوکرین کو ابھی تک امریکی پیٹریاٹ دفاعی نظام یا ان کے میزائل خود بنانے کا لائسنس نہیں دیا گیا، حالانکہ فضائی دفاع اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔انٹرویو کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ جنگ کا حل ایک ہی راستے سے نہیں بلکہ متعدد سفارتی اور فوجی اقدامات کے ذریعے نکلے گا اور آخرکار پیوٹن کو روکنا ہی اصل کامیابی ہوگی۔












