اسلام آباد(پاک ترک نیوز )وزیراعظم شہباز شریف نے لائیو اسٹاک کے شعبے کو جدید اور کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے، اعلیٰ نسل کے درآمدی مویشیوں کی خصوصی فارم ہاؤسز میں نشوونما اور انہیں دوبارہ برآمد کرنے کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم کی زیر صدارت لائیو اسٹاک شعبے میں جاری اصلاحات کا اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں شعبے کی استعداد، برآمدات بڑھانے اور بیماریوں کے خاتمے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مویشیوں کی برآمد کے لیے خصوصی فارم ہاؤسز قائم کیے جائیں، جہاں زیادہ پیداوار دینے والی اعلیٰ نسل کے مویشی درآمد کرکے ان کی نشوونما کی جائے اور بعد ازاں انہیں برآمد کیا جائے۔ انہوں نے ایسے فارم ہاؤسز کے لیے مویشیوں کی درآمد ڈیوٹی فری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
شہباز شریف نے برآمدی مویشیوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیگنگ نظام متعارف کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ خصوصی فارم ہاؤسز میں پرورش پانے والے مویشی برآمد ہی کیے جائیں۔
وزیراعظم نے لائیو اسٹاک شعبے کی کارپوریٹ طرز پر تنظیم نو اور نجی شعبے کے ماہرین کی معاونت سے اصلاحات کی تیاری اور نفاذ کی بھی منظوری دی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی زرعی شعبے کا 60 فیصد سے زائد حصہ لائیو اسٹاک پر مبنی ہے اور اس شعبے میں برآمدات بڑھانے کی بھرپور استعداد موجود ہے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پاکستان میں تقریباً 24 کروڑ 50 لاکھ مویشی موجود ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے ہے۔ لائیو اسٹاک شعبہ قومی معیشت میں 14.97 فیصد جبکہ زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
بریفنگ کے مطابق ملک میں سالانہ تقریباً 7 کروڑ 46 لاکھ 90 ہزار ٹن دودھ اور 63 لاکھ 10 ہزار ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے جبکہ تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک سے وابستہ ہیں۔
حکام نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی گوشت کی برآمدات تقریباً 53 کروڑ ڈالر رہیں، جن کا بڑا حصہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر کو برآمد کیا گیا۔ ملائیشیا، سعودی عرب اور چین کو نئی اور توسیعی منڈیوں کے طور پر اہم قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے ملک سے منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے مقررہ اہداف کے ساتھ لائحہ عمل دو ہفتے میں مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی معیار کی جانچ کے لیے تیسرے فریق کی توثیق یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات بڑھانے کے لیے بیماریوں کی نگرانی، جانوروں کی قابلِ سراغ شناخت، منہ کھر سے پاک زونز، ویکسینیشن، ڈیجیٹل نگرانی، برآمدی معیار کے فارم اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن سمیت مختلف اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدی صنعت کی ترقی کے لیے پوری سپلائی اور پیداواری زنجیر بہتر بنانے اور گوشت، لائیو اسٹاک اور متعلقہ برآمدات کے اہداف مقرر کرکے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ حکومت نے 2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔






