کوالالمپور(پاک ترک نیوز) پاکستان کی جانب سے ترکیہ کی کورکوت طیارہ شکن توپوں اور شاہین انسداد ڈرون ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ چینی ایچ کیو 17میزائلوں کا حصول ملک کے فضائی دفاع کو مختلف مداخلتی تہوں کو یکجا کرتے ہوئےہوائی اڈوںکے دفاع کو مستحکم بنانےکی ایک مرکوز کوشش کا اشارہ ہے۔ڈیفنس سیکورٹی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق7ستمبر کو یوم فضائیہ کے موقع پرپاک فضائیہ کی جانب سے عوام کے لئے پیش کئے گئے پاکستان کے ابھرتے ہوئے شارٹ رینج ایئر ڈیفنسکے ہتھیاروںکے مرکز میں ترک-چینی ہتھیاروںکے ادغام کو نمایاں کیا گیا تھا۔ اس میں انقرہ خصوصی گن سسٹم فراہم کر رہا ہے جب کہ بیجنگ محفوظ تنصیبات سے دور خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری میزائل کے اجزاء کی فراہمی برقرار رکھے ہوئےہے۔
7 ستمبر کو جاری ہونے والی پاکستان ایئر فورس کی فوٹیج میںترکیہ کی کمپنی اسلسان کےشاہین اینٹی ڈرون نظام اور اوکور کوت گنوں کو چینی ۔ایچ کیو 17۔زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم اور نورنکو ایل ڈی۔ 76 گن سسٹم کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔تاہم ملک کی جانب سے ان ہتھیاروں کی حاصل کردہ مقدار، آپریشنل تعیناتی کے مقامات اور مقامی پیداوار کے لیےمتوقع انتظامات دستیاب نہیں ہیں۔اس مربوط فضائی دفاعی شیلڈ کی آپریشنل اہمیت اس بنیادی ڈھانچے کی حفاظت میں مضمر ہے جو جنگی ہوا بازی کو برقرار رکھتا ہے۔ کیونکہ طیاروں کی دستیابی کا انحصار قابل استعمال رن وے، کام کرنے والے ہینگرز اور قابلِ اعتماد کمانڈ سہولیات پر ہے۔ اور یہ سب اس وقت ہی خطرے سےمحفوظ رہ سکتے ہیں جب دفاعی قوتیں آنے والے حملے کےبڑے حصے کو روکیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں بجلی کا بحران تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
رپورٹ کے مطابق فضائی دفاع کے اس متنوع انتظام کی ضرورت کو مئی 2025کی پاک۔ بھارت جھڑپوں نے نمایاںکیا تھا ۔جب کشیدگی کے آغاز پر بھارتی میزائلز نےایک سے زیادہ مقامات پر پاک فضائیہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔












