تہران ( پاک ترک نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج فارس میں جاری جنگی صورتحال کے دوران ایران اور امریکا کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ مختلف تجاویز اور شرائط پر ابتدائی ردعمل کا تبادلہ بھی ہو چکا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے، اسی لیے جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی ذرائع کو متحرک کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور رابطوں کے تسلسل میں مثبت کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہونے کے بجائے آگے بڑھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، بحری نقل و حرکت اور سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیج فارس دنیا کی اہم ترین تجارتی اور تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بڑے تصادم کے عالمی سطح پر سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی علاقائی تنازعات میں متوازن اور محتاط پالیسی اختیار کی ہے۔ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد کی کوشش ہے کہ خطے میں استحکام برقرار رہے اور تمام فریق مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب بڑھیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں، جس کی وجہ سے اسے ایک قابلِ قبول ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ادھر ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کا مقصد فوری جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور بعض حساس معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے باہمی احترام اور عملی ضمانتیں ضروری ہوں گی۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے بھی بعض تجاویز پر ردعمل دیا گیا ہے، تاہم باضابطہ تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خلیج فارس میں جاری تناؤ میں کمی آسکتی ہے بلکہ پورے خطے میں سیاسی اور معاشی استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ اس وقت عالمی برادری کی نظریں ان سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ کسی بھی مثبت پیش رفت سے ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں مدد مل سکتی ہے۔












