تہران(پاک ترک نیوز ) مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، جس میں علاقائی سلامتی، موجودہ کشیدگی اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کریں گے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ملاقات میں شریک ہوں گے۔ ترکیہ کی نمائندگی ترک انٹیلی جنس کے سربراہ کریں گے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں سکیورٹی صورتحال کشیدہ ہے اور سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں سمیت حوثی باغیوں کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق رواں ماہ ریاض میں ہونے والے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی سے متعلق اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو دیگر رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ معاہدے میں رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون پر زور دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں سلامتی کے قیام کے لیے ایران کے ساتھ مل کر مؤثر اقدامات کر سکتے ہیں۔
علی باقری کے مطابق علاقائی سلامتی کے لیے ایسا مشترکہ نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو خطے کے ممالک کی اپنی صلاحیتوں اور وسائل پر انحصار کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر آج حملہ نہیں ہو گا،ڈونلڈ ٹرمپ
تہران میں ہونے والی اس ملاقات میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، سکیورٹی تعاون بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ممکنہ اقدامات پر بات چیت متوقع ہے۔






