اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)اسلام آباد میں ہونے والے ہلاکت خیز دھماکے کے بعد تفتیش کا دائرہ پھیلتے ہوئے پشاور تک جا پہنچا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مبینہ خودکش حملہ آور کے گھر پر کارروائی کرتے ہوئے اس کے قریبی رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران مبینہ خودکش حملہ آور یاسر کے دو بھائی، ایک بہنوئی اور ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران اہم شواہد بھی قبضے میں لیے گئے، جن کی بنیاد پر مزید گرفتاریاں متوقع بتائی جا رہی ہیں۔
تحقیقات سے سامنے آیا ہے کہ یاسر واقعے سے قبل اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا، جس کے شواہد تفتیشی عمل کے دوران حاصل کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان روابط کی نوعیت اور مقصد جاننے کے لیے گرفتار افراد سے تفصیلی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔سی ٹی ڈی حکام کے مطابق یاسر گزشتہ سال مئی میں افغانستان گیا تھا اور جون میں وطن واپس آیا، جس کے بعد اس کی نقل و حرکت مختلف علاقوں تک محدود نہیں رہی۔
تفتیشی ریکارڈ کے مطابق اس نے باجوڑ میں قیام کے دوران ایک سم کارڈ فعال کیا اور کئی ماہ وہاں مقیم رہا، بعد ازاں نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد منتقل ہوا۔
تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ مبینہ خودکش حملہ آور نے واقعے سے قبل جائے وقوعہ کی ریکی کی تھی، جس سے منصوبہ بندی کے شواہد مضبوط ہوئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں تفتیش کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔
اسلام آباد دھماکے کے بعد وفاقی دارالحکومت اور گرد و نواح میں سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں، جبکہ حساس مقامات پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ایک مسجد کے قریب خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔












