جمعرات , 23 جولائی , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
پاک ترک نیوز
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
Home اہم ترین

دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب، راوی بپھرنے سے پانی لاہور میں بھی داخل، پنجاب میں اموات 20 ہوگئیں

11 مہینے پہلے
A A
دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب، راوی بپھرنے سے پانی لاہور میں بھی داخل، پنجاب میں اموات 20 ہوگئیں
Share on Facebookwhatsapp

اسلام آباد (پاک ترک نیوز) بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارشوں کے باعث دریائے راوی، چناب اور ستلج بھپر گئے جس کے باعث سیلاب نے پنجاب میں تباہی مچا دی، کئی اضلاع زیر آب آگئے اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مال مویشی سیلاب کی نذر ہوگئے، اب تک 20 افراد جاں بحق ہوگئے۔
دریائے راوی کے بھپرنے سے لاہور کے مختلف علاقوں میں پانی داخل ہوگیا۔
مرید وال، تھیم پارک، موہلنوال، فرخ آباد، شفیق آباد، افغان کالونی، نیو میٹر سٹی اور چوہنگ ایریا سے محفوظ انخلا مکمل کر لیا گیا۔ طلعت پارک بابو صابو میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چار بلاکس میں پانی داخل ہوا تاہم رہائشیوں کو بروقت نکال لیا گیا۔
لاچیوالی سکول کے ریلیف کیمپ میں 70 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ بیشتر متاثرین چوہنگ اور ٹھوکر ریلیف کیمپ میں مقیم ہیں، قیام و طعام کی بہترین سہولتیں میسر کی گئی ہیں۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (NEOC) نے دریائے چناب، راوی اور ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے پر شدید سیلابی الرٹ جاری کر رکھا ہے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہے تاہم بیشتر مقامات پر صورتحال مستحکم ہے اور بڑے ہیڈ ورکس پر بہاؤ قابو میں ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب، راوی اور ستلج کے مختلف ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد و اخراج جاری ہے لیکن بیشتر جگہوں پر سطح میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
محکمہ آبپاشی کی رپورٹ کے مطابق دریائے راوی میں جسّر کے مقام پر 85 ہزار 980 کیوسک پانی کی سطح برقرار ہے جبکہ راوی سائفن پر دو لاکھ دو ہزار 428 کیوسک پانی میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
شاہدرہ کے مقام پر بھی دو لاکھ ایک ہزار 400 کیوسک پانی کے ساتھ سطح نیچے جا رہی ہے۔ تاہم بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کی مقدار ایک لاکھ 51 ہزار 560 کیوسک ہے اور وہاں سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سدھنائی ہیڈ ورکس پر بہاؤ 25 ہزار 478 کیوسک ہے جو مستحکم ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر دو لاکھ 61 ہزار 53 کیوسک پانی کا بہاؤ ہے، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر ایک لاکھ 13 ہزار 124 کیوسک جبکہ اسلام ہیڈ ورکس پر 60 ہزار 814 کیوسک پانی کی صورتحال جوں کی توں ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کا اخراج ایک لاکھ 16 ہزار 440 کیوسک ہے جبکہ خانکی ہیڈ ورکس پر ایک لاکھ 88 ہزار 100 کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
قادر آباد ہیڈ ورکس سے دو لاکھ 17 ہزار 375 کیوسک پانی کا بہاؤ مستحکم ہے اور چنیوٹ پل پر آٹھ لاکھ 42 ہزار 500 کیوسک پانی موجود ہے۔ تریموں ہیڈ ورکس پر بھی ایک لاکھ 29 ہزار 372 کیوسک پانی کے ساتھ صورتحال قابو میں ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ لاہور میں دریائے راوی کے مقام شاہدرہ سے گزرنے والا دو لاکھ 20 ہزار کیوسک کا ریلا 1988 کے بعد سب سے بڑا تھا، تاہم خوش قسمتی سے شہر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اب شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں مزید کمی متوقع ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ لاہور میں سیلابی پانی 9 مقامات پر داخل ہوا، جہاں متاثرہ افراد کو بروقت ریسکیو کر لیا گیا۔ اس وقت بلوکی کے مقام پر ایک لاکھ 47 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے اور یہ پانی ڈاؤن اسٹریم سے آگے دریائے راوی میں شامل ہوگا۔ حکومت نے دریا کے گزرگاہوں میں بسنے والے لوگوں کو سختی سے انخلا کا حکم دیا ہے اور بعض مقامات پر طاقت کا استعمال کرکے بھی انخلا کروایا گیا ہے۔
عرفان کاٹھیا نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے مادھوپور ہیڈ ورکس سے مسلسل 80 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، جو لاہور شاہدرہ سے گزر کر آگے چنیوٹ اور پھر ریواز برج تک پہنچے گا۔ ان کے بقول ریواز برج اس وقت حکومت کے لیے سب سے بڑی تشویش ہے اور اس مقام پر بند توڑنے کے بارے میں غور کیا جارہا ہے تاکہ جھنگ کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اسی طرح تریمیمو کے بعد پانی ہیڈ محمد والا اور پھر ملتان کے نظام میں شامل ہوگا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پچھلے چار روز سے قصور کے قریب دریائے ستلج میں دو لاکھ سے زائد کیوسک پانی کا بہاؤ جاری ہے، جس کے باعث سلیمانکی کے مقام پر صورتحال خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ صوبے میں اب تک ایک ہزار سات سو انہتر مواضعات زیر آب آچکے ہیں، چودہ ہزار سے زائد افراد براہِ راست متاثر ہوئے ہیں جبکہ چار ہزار سے زیادہ لوگ کیمپوں میں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک چار لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث اب تک 20 اموات ہوچکی ہیں اور خدشہ ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ پانی سندھ میں داخل نہیں ہوتا پنجاب ہائی الرٹ پر ہے اور سندھ حکومت کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ کوہ سلیمان پر بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جس سے رود کوہیوں میں پانی کا بہاؤ بڑھے گا۔ ان کے مطابق بھارت نے پانی کے اخراج کے بارے میں بروقت معلومات فراہم نہیں کیں جس سے نقصان میں اضافہ ہوا، اور اسی تاخیر پر بین الاقوامی میڈیا نے بھی بھارت پر تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلڈ پلان ایکٹ کے تحت اب آبی گزرگاہوں میں موجود تمام غیرقانونی تعمیرات کو خالی کرایا جائے گا تاکہ مستقبل میں بڑے نقصانات سے بچا جاسکے۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر دریا کے راستوں کو خالی کردیں تاکہ ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات موثر انداز میں جاری رکھے جا سکیں۔
ملتان میں دریائے چناب کی بپھری موجوں کے باعث اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر وسیم حامد کے مطابق، شہری آبادی کو ممکنہ تباہی سے بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا کے مقام پر کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیلابی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں سے اب تک 60 فیصد تک آبادی کا انخلا مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ باقی افراد کو نکالنے کے لیے بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
این ای او سی کے مطابق 31 اگست کو ہیڈ تریمو پر پانی کا بہاؤ 7 سے 8 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جو جھنگ اور گرد و نواح کے علاقوں کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔
3 ستمبر تک سیلابی ریلا پنجند تک پہنچے گا، جہاں 6.5 سے 7 لاکھ کیوسک کے درمیان بہاؤ متوقع ہے
پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔
دریائے چناب، راوی، ستلج، جہلم اور سندھ سے ملحقہ علاقوں سے 3 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مجموعی طور پر صوبے بھر سے 45 ہزار سے زائد افراد کا انخلاء ممکن بنایا گیا ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں گجرات، گجرانوالہ، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن شامل ہیں۔ پنجاب کے 30 اضلاع میں جاری ٹرانسپورٹیشن آپریشن میں 669 بوٹس اور 2861 ریسکیورز شریک ہیں۔
منڈی بہاالدین کے علاقے کالا شیدیاں سے 816 اور حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 625 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
ننکانہ صاحب میں 1553 افراد کو سیلابی پانی سے بحفاظت نکالا گیا، جن میں 568 خواتین اور 318 بچے بھی شامل ہیں۔
متاثرہ دیہاتوں سے 2392 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ننکانہ صاحب میں ریسکیو آپریشن کے لیے 14 بوٹس، 93 ریسکیو ورکرز اور 122 رضاکار سرگرم عمل رہے۔
سیلاب متاثرین کے لیے قائم 7 فلڈ ریلیف اور شیلٹر کیمپس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر علاج، خوراک اور دیگر سہولیات کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے تجاوزات کے خلاف بروقت آپریشن کا فائدہ سیلاب کی شدید صورتحال میں عوام کو جانی نقصانات سے بچانے میں ہوا ہے۔
چناب، ستلج اور راوی میں سیلاب سے پنجاب کے کل 1 ہزار 432 موضع جات کے 12 لاکھ 36 ہزار 824 شہری متاثر ہوئے۔
دریائے چناب کے کنارے آباد 991 موضع جات اور 7 لاکھ 69 ہزار 281 شہری متاثر ہوئے۔
دریائے راوی کے کنارے آباد 80 موضع جات اور 74 ہزار 775 شہری متاثر ہوئے۔
دریائے ستلج کے کنارے آباد 361 موضع جات اور 3 لاکھ 92 ہزار 768 شہری متاثر ہوئے۔
سیلاب کے باعث 2 لاکھ 48 ہزار 86 لوگوں کو گھر بار چھوڑنا پڑا، جنہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ ایک لاکھ 48 ہزار سے زائد مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 234 جانوروں کے علاج کے کیمپ بھی کام کر رہے ہیں۔
غیر معمولی سیلاب میں ایک بھی شہری کا جاں بحق نہ ہونا مینجمنٹ کی اعلیٰ مثال ہے، 694 ریلیف کیمپ اور 265 میڈیکل کیمپس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اے صوبے بھر میں مسلسل کوارڈینیشن کو یقینی بنا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کو جلد از جلد یقینی بنائیں، عوام کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔ تمام متعلقہ ریسکیو و ریلیف ادارے ہائی الرٹ رہیں، کوتاہی کی گنجائش نہیں۔

موضوعات : chinabfloodindiandmaravisatlujwater
ShareSend

متعلقہ خبریں

22 people killed, 23 injured in rains and flash floods in Khyber Pakhtunkhwa.
تازہ ترین

خیبر پختونخوا میں بارش ،فلش فلڈ سے 22افراد جاں بحق ،23زخمی

23 جولائی , 2026
مقبوضہ کشمیر میں بارشیں ،بھارت نے سیلابی ریلا پاکستان کی طرف چھوڑ دیا
پاکستان

مقبوضہ کشمیر میں بارشیں ،بھارت نے سیلابی ریلا پاکستان کی طرف چھوڑ دیا

22 جولائی , 2026
18 people killed in accidents during rains in Khyber Pakhtunkhwa
پاکستان

خیبر پختونخوا میں بارشوں کے دوران حادثات،18افراد جاں بحق

22 جولائی , 2026
Rain in Punjab Death toll from accidents rises to 8.
تازہ ترین

پنجاب میں بارشیں ،حادثات میں اموات کی تعداد 8ہو گئی

22 جولائی , 2026
Rains in Punjab and Khyber Pakhtunkhwa
اہم ترین 3

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بارشیں

21 جولائی , 2026
Heavy rains forecast for Punjab starting tomorrow.
تازہ ترین

کل سے پنجاب میں موسلا دھار بارشوں کی پیش گوئی

18 جولائی , 2026
اگلی خبر
پنجاب میں تباہ کن سیلاب سے 1692 موضع جات زیر آب، 14 لاکھ 60 افراد متاثر

پنجاب میں تباہ کن سیلاب سے 1692 موضع جات زیر آب، 14 لاکھ 60 افراد متاثر

یہ بھی پڑھیں

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 59لاکھ ڈالر کی کمی

23 جولائی , 2026
آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم

آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم

23 جولائی , 2026
امریکا جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، ٹرمپ

امریکا جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، ٹرمپ

23 جولائی , 2026
پہلا ون ڈے ،پاکستان ویمن ٹیم نے سری لنکا کو شکست دیدی

پہلا ون ڈے ،پاکستان ویمن ٹیم نے سری لنکا کو شکست دیدی

23 جولائی , 2026
بلوچستان پاکستان کا فخر ،امن لائیں گے ، فیلڈ مارشل

بلوچستان پاکستان کا فخر ،امن لائیں گے ، فیلڈ مارشل

23 جولائی , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

فیس بک ٹویٹر انسٹاگرام یوٹیوب

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Urdu
English