لاہور: (پاک ترک نیوز)پاکستان ریلوے ملک میں اپنی نوعیت کے سب سے بڑے ڈیجیٹائزیشن پروگرام کا پہلا مرحلہ جون 2026 تک مکمل کر لے گا۔
یہ بات وفاقی وزیرِ ریلوے محمد حنیف عباسی نے بتائی۔ اس منصوبے کا مقصد ریلوے نظام کو جدید بنانا، حفاظت کے معیار کو بہتر کرنا اور برسوں سے جاری تاخیر اور انتظامی مسائل پر قابو پانا ہے۔
یہ منصوبہ، جسے ’’ریلوے ایڈوانسڈ انفراسٹرکچر نیٹ ورک‘‘ (RAIN) کا نام دیا گیا ہے، پاکستان ریلوے کے لیے ایک ہمہ گیر ڈیجیٹل اصلاحات کا عمل ہے۔
اس کے تحت ریئل ٹائم مانیٹرنگ، مرکزی آپریشنل کنٹرول اور ڈیٹا کی بنیاد پر فیصلوں کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ پاکستان ریلوے طویل عرصے سے حفاظتی خامیوں، سروس میں رکاوٹوں اور مالی نقصانات جیسے مسائل کا شکار رہی ہے۔یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری معاشی استحکام پروگرام کے تحت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں میں اصلاحات کا دباؤ درپیش ہے۔
حکومت کے نزدیک ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی بہتری معیشت اور عوامی خدمات کی کارکردگی بڑھانے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔پاکستان ریلوے، جو ماضی میں طویل فاصلے کے سفر کا بنیادی ذریعہ تھا، گزشتہ دہائیوں میں کم سرمایہ کاری، سڑکوں کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بار بار پیش آنے والے حادثات کے باعث اپنی اہمیت کھوتا گیا۔
حکام کے مطابق RAIN منصوبہ اسی زوال کو روکنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہے۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے مطابق RAIN منصوبے سے ٹرینوں کی تاخیر اور حادثات میں نمایاں کمی آئے گی، مسافروں کو بہتر سہولیات ملیں گی اور مجموعی آپریشنل کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے یہ بات منصوبے کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے بعد جاری بیان میں کہی۔وزارتِ ریلوے کے مطابق RAIN کے پہلے مرحلے کی مکمل مالی اعانت پاکستان ریلوے اپنی آمدن سے کرے گا، جو مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور حکومتی سبسڈی پر انحصار کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پہلے مرحلے میں تمام ٹرینوں اور انجنوں میں جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم نصب کیا جائے گا، جس سے ٹرینوں کی نقل و حرکت کو براہِ راست مانیٹر کیا جا سکے گا اور کسی بھی رکاوٹ یا ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل ممکن ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور میں پاکستان ریلوے کے ہیڈکوارٹر اور تمام ڈویژنل دفاتر میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے جائیں گے، تاکہ حادثات یا تاخیر کی صورت میں مرکزی نگرانی اور تیز فیصلے ممکن ہوں۔
منصوبے کے تحت مین لائن ون (ML-1) کے تقریباً 1,700 کلومیٹر طویل حصے پر فائبر آپٹک نیٹ ورک بچھایا جائے گا۔ یہ پاکستان کا مصروف ترین شمال-جنوب ریلوے کوریڈور ہے جو بڑے شہروں اور بندرگاہوں کو آپس میں ملاتا ہے، اور ڈیجیٹل نگرانی و تیز رفتار ڈیٹا ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔RAIN منصوبے میں بڑے ریلوے اسٹیشنوں کو ’’محفوظ اور اسمارٹ‘‘ بنانے کا پروگرام بھی شامل ہے، جس کی مثال راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر پہلے ہی دیکھی جا چکی ہے۔
اس کے ساتھ منتخب اسٹیشنوں پر تیز رفتار انٹرنیٹ سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ مسافروں کے تجربے اور آپریشنل رابطہ کاری میں بہتری آئے۔وزارتِ ریلوے کے مطابق ڈیجیٹائزیشن پروگرام کے آئندہ مراحل کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔












