اسلام آباد: (پاک ترک نیوز) سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل کی زندگی کے حوالے سے سامنے آنے والی تازہ اطلاعات نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان نے واضح کیا ہے کہ وہ جیل میں کسی قسم کی خصوصی سہولت یا مراعات کے خواہاں نہیں، بلکہ صرف بنیادی ضروریات زندگی پر اکتفا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہیں جیل میں زندہ رہنے کے لیے وہی بنیادی اشیاء کافی ہیں جو انسانی بقا ءکے لیے ضروری ہیں۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی طبی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق وزیراعظم کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15 فیصد رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید کرب اور تکلیف میں مبتلا ہیں۔
اطلاعات کے مطابق عمران خان کو اڈیالہ جیل میں مخصوص قید خانے میں رکھا گیا ہے، جہاں وہ گزشتہ تقریباً 2 سال اور 4 ماہ سے تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
عدالتی معاون کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران انہوں نے نوٹ کیا کہ عمران خان بار بار ٹِشو پیپر سے اپنی آنکھیں صاف کر رہے تھے اور آنکھ کی تکلیف میں مبتلا نظر آئے۔
جیل میں موجود سہولیات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عمران خان حفاظتی اقدامات اور بنیادی کھانے پینے کی اشیاء سے مطمئن ہیں، لیکن سیل میں ٹی وی کام نہیں کرتا، گرمی کے موسم میں مچھر اور کیڑوں کی بھرمار ہے، اور ریفریجریٹر نہ ہونے کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔
مزید برآں، وہ اپنے وکلاء اور خاندان سے ملاقاتیں محدود ہونے پر بھی پریشان ہیں، اور صرف اہلیہ سے ہفتے میں ایک مرتبہ 30 منٹ کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایک سابق وزیراعظم کی جیل کی صورتحال، محدود سہولیات اور بڑھتی ہوئی صحت کی مشکلات ملکی سیاست پر کس طرح اثر ڈالیں گی؟ آنے والے دن اس حوالے سے کئی نئی بحثوں اور تجزیوں کو جنم دے سکتے ہیں۔












