
از: سہیل شہریار
پاکستان نے ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی بناپر تعطل کا شکار ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر عمل درآمد کے لیے ایران سے 2035 تک 10 سال کی نئی توسیع کی درخواست کر دی ہے۔ کیونکہ تہران کی جانب سے دائر بین الاقوامی ثالثی مقدمے میں اسلام آباد کو18 ارب ڈالر کے ممکنہ جرمانے کا سامنا ہے۔
اس میں تہران پر امریکی پابندیوں کو ایک اہم رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق پاکستان اس وقت فرانس کے قانون کے تحت پیرس میں قائم ثالثی فورم کے سامنے ایران کی طرف سے شروع کیے گئے مقدمے کا مقابلہ کر رہا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ عدالت سے باہر تصفیہ تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی کر رہا ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں وزارتی نگرانی کمیٹی پاکستان کے مالیاتی ایکسپوژر کو محدود کرنے کے لیے متعدد آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
تاہم وفاقی وزیر پیٹرولیم اور قدرتی وسائل علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ نگرانی کمیٹی تمام دستیاب آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔ قانونی کارروائی تو جاری ہے۔ البتہ سفارتی محاذ پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ایران نے ستمبر 2024 میں پاکستان کے خلاف ثالثی کی کارروائی شروع کرتے ہوئے یہ الزام لگایاتھا کہ پاکستان بار بار ڈیڈ لائن میں توسیع کے باوجود اور گیس سیلز پرچیز ایگریمنٹ کے تحت 18 بارب ڈالر کا ہرجانہ طلب کرنے کے باوجود پائپ لائن کے اپنے حصے کی تعمیر میں ناکام رہا ہے۔
پاکستانی حکام بشمول اٹارنی جنرل اور پٹرولیم ڈویژن کے تعاون سے بین ریاستی گیس سسٹمز کی قانونی ٹیم نےثالثی عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے۔
حکام کو 2027 یا 2028 میں ثالثی کے فیصلے کی توقع ہے۔ تاہم ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریق اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں بھی مصروف ہیں جس کا مقصد قانونی عمل سے باہر تنازعہ کو حل کرنا ہے۔ پاکستان مزید 10 سال کی توسیع کا خواہاں ہے۔جس کے لئے دونوں ملکوں کے درمیان غیر رسمی انداز میں قیادت کی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔












