اسلام آباد(پاک ترک نیوز) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مولانا فضل الرحمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کوئی مالِ غنیمت نہیں کہ آپ کو اس میں حصہ مل جائے۔ ہم صوبے میں کوئی سیاسی نظام بنانے نہیں گئے، مولانا فضل الرحمان سے ایسی امید نہیں تھی۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ جب کوئی شخص پگڑی پہنتا ہے اور داڑھی رکھتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دو جماعتوں سے ہارے ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ تمام فریق مل بیٹھ کر معاملات حل کریں، تاہم ان کے بقول مولانا فضل الرحمان کی ناکامی کے بعد گورنر راج اور ایمرجنسی کا اقدام اٹھایا گیا۔
طلال چوہدری نے پاکستان تحریک انصاف اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان تعلقات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے درمیان کوئی نہ کوئی رشتہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے پاکستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کا دفتر کھولنے کی بات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل فون پر کال اور انٹرنیٹ کا معیار کیسے بہتر بنائیں؟
انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں، متعدد مذہبی جماعتوں اور سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے ہوئے، تاہم ان کے بقول پی ٹی آئی کے کسی رہنما یا اجتماع پر کبھی دہشت گردی نہیں ہوئی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد، دہشت گرد ہوتا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی جانی چاہیے۔








