اسلام آباد( پاک ترک نیوز)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تصدیق کر دی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جن افراد کے خلاف الزامات ہیں۔ ان کے مقدمات عدالت میں چلائے جائیں گے جبکہ جن کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں، انہیں رہا کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایمرجنسی اورگورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی گئی تھی، وزیراعلیٰ ہاؤس میں کسی کوداخلے کی اجازت نہیں تھی،وہاں تعینات عملے کی تعداد بھی محدود کر دی گئی تھی
یہ بھی پڑھیں:رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے معاشیات کے نوبیل انعام کا اعلان کر دیا
یاد رہے کہ گزشتی روز وفاقی حکومت نے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا جس میں بتایا گیا ہے کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت گورنر کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض اختیارات سنبھالنے کی ہدایت دے سکتی ہے، گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کے تفویض کردہ اختیارات اور فرائض انجام دے سکیں گے، خیبرپختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا مقرر کردہ ادارے کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے، وزیراعلیٰ،صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل فوری عہدے چھوڑ دیں گے۔












