ڈھاکہ ( پاک ترک نیوز) جنگِ آزادی کا مجاہد۔۔۔ سرکاری افسر۔۔۔ پارلیمنٹ کا رکن۔۔۔ اپوزیشن کا طاقتور چہرہ۔۔۔ پھر جیل۔۔۔ اور اب صدارتی محل!بنگلہ دیش کے نئے صدر مرزا فخر الاسلام عالمگیر کا سیاسی سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ 78 سالہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے 23ویں صدر منتخب ہوگئے ہیں، لیکن بنگ بھابن تک پہنچنے کے لیے انہوں نے کئی دہائیوں پر محیط ہنگامہ خیز سیاسی سفر طے کیا۔1948 میں ٹھاکرگاؤں کے ایک سیاسی گھرانے میں پیدا ہونے والے فخر الاسلام نے ڈھاکا یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران طلبہ سیاست میں قدم رکھا۔
1969 کی عوامی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔۔۔ پھر آیا 1971 کا ہنگامہ خیز دور۔فخر الاسلام کے مطابق انہوں نے جنگِ آزادی کے دوران مزاحمتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، ہتھیار حاصل کیے، جنگ کے بعد سیاست سے کچھ فاصلے پر رہے۔۔۔ سرکاری ملازمت کی۔۔۔ پھر انتخابی سیاست میں آئے اور بالآخر بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہوگئے۔شیخ حسینہ کے طویل دورِ حکومت میں جب خالدہ ضیاء جیل میں تھیں اور طارق رحمان لندن میں تھے، فخر الاسلام بی این پی کا سب سے نمایاں عوامی چہرہ بن گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 2برس میں بیرونِ ملک 799 پاکستانی ورکرز جاں بحق، پارلیمنٹ میں تفصیلات پیش
لیکن اقتدار کی اس لڑائی کی قیمت بھی چکانا پڑی۔۔۔2023 میں ڈھاکا احتجاج کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق انہیں درجنوں مقدمات کا سامنا رہا۔اور اب۔۔۔ وہی اپوزیشن رہنما، جو کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھے، آج بنگلہ دیش کے صدارتی محل بنگ بھابن میں پہنچ چکے ہیں۔پارلیمنٹ میں فخر الاسلام نے 255 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مدمقابل اولی احمد کو 88 ووٹ ملے۔
سیاسی نظریات کے اعتبار سے مرزا فخر الاسلام خود کو لبرل ڈیموکریٹ قرار دیتے ہیں۔ وہ ماضی میں بائیں بازو کی انقلابی سیاست سے وابستہ رہے، لیکن ان کے مطابق اسی تجربے نے انہیں اس نتیجے تک پہنچایا کہ حقیقی ترقی جمہوریت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔جنگ سے جیل۔۔۔ جیل سے پارلیمنٹ۔۔۔ اور پارلیمنٹ سے صدارت تک۔۔۔مرزا فخر الاسلام عالمگیر کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست میں کل کا اپوزیشن رہنما آج ملک کا صدر بھی بن سکتا ہے۔












