لاہور( پاک ترک نیوز) جان ہے تو جہاں ہے ،لیکن پاکستان میں زندگی کی جنگ دن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے ،۔ عالمی یومِ صحت پر سامنے آنے والے اعداد و شمار نے سب کو ہلا کر رکھ دیا
پاکستان میں صحت کا سسٹم دم توڑنے لگا ، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر روز 27 مائیں دورانِ زچگی جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جبکہ 675 نومولود بچے زندگی کی پہلی سانسیں بھی پوری نہ لے پاتے۔
ملک میں تپ دق ، ملیریا اور ہیپاٹائٹس جیسے خطرناک امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ 68 فیصد بیماریاں ماحولیاتی آلودگی کے باعث جنم لے رہی ہیں۔فضائی آلودگی، آلودہ پانی اور ناقص صفائی کے نظام نے شہریوں کو بیماریوں کے نرغے میں لے لیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا ہےملک میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی سے پیدا ہوتی ہیں ۔وفاقی حکومت کا ہدف ملک میں ویکسین کی تیاری ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں صحت عامہ کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، ہاں بنیادی سہولیات کی کمی، مہنگا علاج اور ناقص طبی نظام عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ادارے کے مطابق اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں صحت کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے ہسپتالوں میں سہولیات کم ،دوائیں مہنگی ہیں ،علاج عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے ،سوال یہ ہے کہ کیا صحت اب صرف امیروں کی سہولت بن کر رہ جائے گی۔ اس وقت پاکستان میں صحت عامہ کے اخراجات جی ڈی پی کا صرف 1.2 فیصد ہیں، جو دنیا میں سب سے کم ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ صحت کی صورتحال بہتر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ عوام میں آگاہی کو فروغ دیاجائے۔
یہ وقت جاگنے کا ہے ،کیوں کہ اگر آج ہم نے اس خطرے کو نہ روکا تو کل شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی۔عالمی یومِ صحت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحت صرف ذاتی نہیں بلکہ قومی ترجیح ہونی چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں گے یا یہ اعداد و شمار مزید خوفناک ہوتے جائیں گے؟”







