گوجرانوالہ ( پاک ترک نیوز) ماں یہ لفظ سنتے ہی ذہن میں محبت، شفقت، تحفظ اور قربانی کا تصور ابھرتا ہے۔ لیکن گوجرانوالہ میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے نے اس تصور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایک چار سالہ معصوم بچی، جسے اپنی ماں کی آغوش میں محفوظ ہونا چاہیے تھا، وہی بچی اندھی عقیدت اور توہم پرستی کا نشانہ بن گئی۔
گوجرانوالہ کے تھانہ اروپ کی حدود میں واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ایک چار سالہ بچی کو مبینہ طور پر زندہ جلائے جانے سے بچا لیا۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب معمول کی گشت کے دوران ایک شہری نے اہلکاروں کو اطلاع دی کہ قریبی گھر سے ایک بچی کی دردناک چیخیں آرہی ہیں، جو بار بار فریاد کر رہی تھی، مجھے مت جلاؤ… مجھے مت جلاؤ…
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، لیکن دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود کسی نے دروازہ نہ کھولا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اہلکاروں نے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔
پولیس کے مطابق اندر کا منظر انتہائی افسوسناک تھا۔ ایک معصوم بچی کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے بندھے ہوئے تھے، جبکہ اس کی والدہ، ایک بہن اور دو بھائی اسے پکڑے ہوئے تھے۔ صحن میں جلتے چولہے پر اسے آگ کی تپش دی جا رہی تھی، جس سے وہ بری طرح جھلس چکی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے جیسے ہی بچی کو بچانے کی کوشش کی تو ملزمان نے ڈنڈوں سے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار کی وردی بھی پھٹ گئی۔ تاہم پولیس نے مزاحمت کے باوجود بچی کو اپنی تحویل میں لے کر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا کہ متاثرہ بچی کی والدہ کچھ عرصہ قبل ایک عامل کے پاس گئی تھیں۔ پولیس کے مطابق خاتون اور اس کے دو بالغ بیٹے اکثر بیمار رہتے تھے، جس پر عامل نے دعویٰ کیا کہ ان کی چار سالہ بیٹی پر جنات کا سایہ ہے اور یہی ان کی بیماریوں کی وجہ ہے۔
پولیس کے مطابق عامل نے خاتون کو یقین دلایا کہ اگر بچی کو آگ کے قریب رکھا جائے تو جن اس کے جسم سے نکل جائے گا اور آگ اسے نقصان نہیں پہنچائے گی۔
تحقیقات کے مطابق پہلے بچی کو ایک کمرے میں لے جا کر کئی گھنٹوں تک اگربتیاں جلائی گئیں تاکہ مبینہ طور پر جنات کو نکالا جا سکے، لیکن جب ان کے خیال میں ایسا نہ ہوا تو عامل کی ہدایت پر اسے آگ کے سامنے لے جایا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے گھر کے صحن میں چولہا جلا کر اس کی آگ تیز کی اور معصوم بچی کو کبھی چہرے کے بل اور کبھی کمر کے بل آگ کے قریب کرتے رہے، جس سے وہ شدید جھلس گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 27مائیں ،675 نومولود روزانہ موت کے منہ میں کون لے گا ذمہ داری
واقعے کے بعد پولیس نے بچی کی والدہ، اس کی بہن اور دونوں بھائیوں کو گرفتار کر لیا۔ عدالت نے والدہ اور بیٹی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جبکہ دونوں بھائیوں کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے، جبکہ مبینہ عامل کی تلاش بھی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق کیس کی تفتیش کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سپرد کر دی گئی ہے تاکہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں بلکہ معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ بھی ہے۔ جب بیماری کے علاج کے لیے علم، طب اور شعور کی جگہ توہم پرستی لے لے، تو اس کی قیمت اکثر معصوم جانوں کو چکانا پڑتی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ اندھی عقیدت اور جھوٹے عاملوں کے فریب سے بچنے کے لیے آگاہی، تعلیم اور قانون پر اعتماد ناگزیر ہے۔









