اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سنگا پور کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ شہری ریاست بلند آمدنی، مضبوط انفراسٹرکچر اور ایشیا کے بڑے مالیاتی مراکز میں شمار ہونے کی وجہ سے عالمی دولت کی درجہ بندی میں اکثر نمایاں مقام حاصل کرتی ہے۔ تاہم ایک نئی درجہ بندی کے مطابق "امیر” ہونے کا مطلب صرف مضبوط معاشی اعداد و شمار نہیں ہونا چاہیئے۔
ہیلو سیف پراسپرٹی انڈیکس 2026 کے مطابق سنگا پور ایشیا کا امیر ترین ملک قرار پایا ہے۔ یہ عالمی سطح پر چھٹے نمبر پر رہا اور اسے 100 میں سے 66.43 پوائنٹس حاصل ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ عالمی ٹاپ سات میں شامل ہونے والا واحد غیر یورپی ملک ہے، جبکہ اس سے آگے ناروے ،آئر لینڈ ،سوئٹزرلینڈ ،آئس لینڈ موجود ہیں۔
یہ انڈیکس صرف جی ڈی پی کی بنیاد پر ممالک کا جائزہ نہیں لیتا، بلکہ اس میں قومی آمدنی، آمدنی میں عدم مساوات، غربت کی شرح اور ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس جیسے اشاریوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے، جن میں متوقع عمر، تعلیم اور فی کس آمدنی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔
سنگاپور نے اپنی مضبوط معیشت اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی بدولت نمایاں کارکردگی دکھائی، تاہم ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ ملک میں آمدنی کا تفاوت سب سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے اسکور میں کمی کی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ سنگاپور ایک خوشحال ملک ہے، لیکن دولت کی غیر مساوی تقسیم اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
ایشیا کے دیگر نمایاں ممالک میں قطر شامل ہے، جو 50.60 پوائنٹس کے ساتھ عالمی سطح پر گیارہویں نمبر پر رہا، جبکہ متحدہ عرب امارات 50.22 پوائنٹس کے ساتھ تیرہویں نمبر پر آیا۔ یہ دونوں ممالک توانائی، مالیاتی خدمات، ہوا بازی، سیاحت اور عالمی سرمایہ کاری کی بدولت خطے کے خوشحال ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
عالمی درجہ بندی میں پہلا نمبر ناروے نے حاصل کیا، جبکہ اس کے بعد آئر لینڈ ہے ۔ اس فہرست میں یورپی ممالک کا غلبہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک ضروری نہیں کہ سب سے بڑی معیشتیں ہی ہوں، بلکہ وہ ممالک زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں جہاں دولت عوام کے معیارِ زندگی میں حقیقی بہتری کا سبب بنتی ہے۔







