تہران ( پاک ترک نیوز) کیا دنیا میں ایک ایسی خفیہ آئل مارکیٹ بھی ہے جہاں پابندیوں والا تیل کھلے عام فروخت ہو رہا ہے؟،جی ہاں اس کھیل کا سب سے بڑا کھلاڑی ہے چین ۔
دنیا بھر میں جب ایران، روس اور وینزویلا پر پابندیاں لگتی ہیں، تو ایک بڑا سوال اٹھتا ہے کہ آخر ان کا تیل جاتا کہاں ہے ،اس کا جواب ہے چین کا صوبہ شانڈونگ۔
یہ چھوٹی ٹی پاٹ نجی ریفائنریز عالمی پابندیوں، اوپیک جیسے اداروں اور حتیٰ کہ بین الاقوامی بینکاری نظام سے بھی باہر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ بغیر کسی خوف کے سستا اور پابندیوں کا شکار خام تیل خرید لیتی ہیں۔،اگر یہ ریفائنریز نہ ہوتیں تو ایران، روس اور وینزویلا کے لیے اپنا تیل عالمی منڈی تک پہنچانا تقریباً ناممکن ہو جاتا۔
چین میں تیل کی ایک ایسی منڈی موجود ہے جو عالمی پابندیوں، اوپیک جیسے بین الاقوامی اداروں اور عالمی بینکاری نظام سے باہر کام کرتی ہے،یہ کمپنیاں چینی صوبہ شانڈونگ میں بڑی تعداد میں قائم ہیں۔
یہ چینی کمپنیاں رعایتی قیمت پر دستیاب پابندی کا شکار خام تیل کو موقع پر خریدنے والے خریدار کے طور پر کام کرتی ہیں۔ان کے بغیر روس، ایران اور وینزویلا سے آنے والے رعایتی بیرلز کو عالمی منڈی تک پہنچانا بہت مشکل ہو جاتا۔
یہ چھوٹی، بنیادی نوعیت کی تنصیبات چین کی سرکاری تیل کمپنیوں دی بگ تھری سے الگ ہیں ،ان میں نسبتاً زیادہ منافعے کا امکان ہوتا ہے اور بیورو کریسی سے آزاد ہیں۔
ٹی پاٹ کی اصلاح انیس سو نوے کی دہائی میں نجی ریفائنریز کے لیے استعمال ہونے لگی، جو پرانی ٹیکنالوجی پر چلتی تھیں اور ان کی پروسیسنگ صلاحیت بہت محدود تھی۔ بنیادی طور پر یہ بڑی سرکاری ریفائنریز کے مقابلے کے مقابلے میں چھوٹے پریریشر ککر جیسی تھیں۔کئی دہائیوں تک یہ ایندھن کے فضلات کو پراسیس کر کے اور قانونی سائے میں کام کرتے ہوئے زندہ رہیں۔ 2015 میں سب کچھ بدل گیا، جب چینی حکومت نے ایک سٹریٹیجک فیصلے کے تحت انھیں براہِ راست خام تیل درآمد کرنے کے لائسنس دے دیئے ،
دیکھتے ہی دیکھتے ٹی پاٹس ریفائنریز چین کی آئل ریفائرنریز کی صنعت کا بیس فیصد انہی کے پاس ہے ،دو ہزار پچیس میں ایران کی جانب سے برآمد کیا جانے والا نوے فیصد تیل چین نے خریدا تھا،دو ہزار سولہ کے آخر تک انیس ریفائنریز کو یومیہ چودہ لاکھ اسی ہزار بیرل کے کوٹے مل چکے تھے ،جو سپین جیسے ملک کی تیل درآمدات سے بھی زیادہ ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے سینٹرل آف گلوبل پالیسی کی محقق ایریکا ڈاؤنس کہتی ہیں کہ چینی حکومت نے دو دہائیوں تک ان تنصیبات کو بند کرنے کی کوششوں کے بعد کئی سٹریٹجک وجوہات کی بنا پر انھیں باضابطہ طور پر نظام میں ضم کیا۔بنیادی وجہ یہ تھی کہ صدر شی جن پنگ بڑی سرکاری تیل کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانا چاہتے تھے، اس لیے اُنھوں نے مقامی منڈی میں مسابقت بڑھائی۔
ایس اینڈ پی گلوبل کے اعداد وشمار کے مطابق یہ چھوٹی آزاد آئل ریفائنریاں یومیہ چالیس ہزار سے دو لاکھ چودہ ہزار بیرل تک ریفائننگ کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔
وینزویلا یا ایران کے لیے پابندیوں کے تحت تیل فروخت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ چونکہ بہت کم خریدار اسے خریدنے کی ہمت کرتے ہیں، اس لیے انھیں یورپ میں حوالہ جاتی قیمت برینٹ کے مقابلے میں فی بیرل 30 امریکی ڈالر تک کی بھاری رعایت دینا پڑتی ہے۔
ایس اینڈ پی گلوبل کموڈیٹی انسائٹس کے مطابق دو ہزار تیئس میں چھوٹی آزاد ریفائنریز کی خام مال کی درآمدات کا اٹھانوے فیصد روس ،وینزویلا اور ایران سے آیا ۔
اس خام تیل کے استعمال سے ان ریفائنریز کو اسی برس مارچ میں پندرہ سو یوان فی ٹن یعنی اٹھائیس ڈالر فی بیرل تک منافع حاصل ہوا۔
ٹاؤنس کہتی ہیں ٹی پاٹ ریفائنریز کو ملنے والی رعائیتیں ہی وہ عنصر تھیں جنہوں نے انہیں پابندی کے شکار خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بنا دیا ۔
ان میں سے بڑی تعداد نجی پائپ لائنوں کے ذریعے آپس میں جڑی ہوئی ہے اور لاجسٹکس شیئر کرتی ہے جس سے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔ امریکی کانگریس کے نزدیک ٹی پاٹ ریفائنریز آپس میں جڑی ہوئی ہیں اور لاجسٹکس شیئر کرتی ہیں جس سے اخراجات کم ہو تے ہیں۔
ڈاؤنس کہتی ہیں کہ یہ چینی سرکاری تیل کمپنیوں کے مقابلے میں خطرے کو زیادہ برداشت کرتی ہیں، کیونکہ ڈالر پر مبنی امریکی مالیاتی نظام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈاؤنس کہتی ہیں کہ چین کی بڑی تیل کمپنیاں ایرانی خام تیل درآمد نہیں کرتیں، کیونکہ اس سے پابندیوں کا خطرہ ہوتا ہے۔ تاہم چھوٹی کمپنیاں اس میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتیں اور اس طرح یہ ایک سیفٹی وال کے طور پر کام کرتی ہیں جنھیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا۔
چین کی بڑی آئل کمپنیوں سی این اوو سی ،پیٹرو چائنا اور سائنو پیک کے دنیا میں کاروبار ہیں اور یہ اسٹاک مارکیٹ میں درج ہیں ،اس لیے انھیں امریکی پابندیوں کا خوف رہتا ہے۔
اس کے برعکس ٹی پاٹس مقامی، نجی کمپنیاں ہیں جن کی بین الاقوامی رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے امریکہ میں اثاثے نہیں اور نہ ہی انھیں مغربی بینکوں کی ضرورت ہے اور اسی لیے یہ ایرانی تیل کی بہترین منزل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کسٹمز حکام ان درآمدات کو سرکاری طور پر ایرانی ظاہر نہیں کرتے، بلکہ انھیں غلط طور پر ملائیشیا، عمان یا متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے منسوب کر دیتے ہیں۔ وینزویلا یا روس سے روانہ ہونے والے جہازوں کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔












