لاہور( پاک ترک نیوز) پاکستان میں گندم کی دستیابی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بار پھر قومی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ عام شہری اس وقت بجلی، پیٹرول اور روزمرہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں اور لیویز کی مد میں اضافی بوجھ بھی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے، جبکہ مہنگائی نے قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ملک کی تقریباً 70 فیصد گندم پنجاب میں پیدا ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں گندم کے بحران کی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ ابتدا میں گندم کی دستیابی سے متعلق اطمینان کا اظہار کیا گیا، تاہم بعد ازاں ہنگامی بنیادوں پر لاکھوں ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے حکومتی پالیسی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
حکومتی پالیسی کے تحت پہلے سرکاری خریداری محدود کی گئی اور بعد میں نجی شعبے سے گندم خریدنے کی توقع رکھی گئی، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اس کے اثرات براہِ راست آٹے، روٹی اور نان کی قیمتوں پر پڑے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز چور دروازے سے اقتدار میں آئیں،شرجیل انعام میمن
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستانی عوام اپنی غذائی توانائی کا بڑا حصہ گندم سے حاصل کرتے ہیں، مگر مہنگائی کے باعث بہت سے خاندان آٹے کا استعمال بھی کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گندم کی پیداوار، خریداری اور تقسیم سے متعلق پالیسیوں میں مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے، جبکہ مہنگائی کا بوجھ بھی عوام پر برقرار رہے گا۔












