
از: سہیل شہریار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا ہے پانچ یا چھ ہفتوں کے ابتدائی تخمینے سے آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔جس کے لئے ہم تیزی سے نیا اسلحہ بنارہے ہیں۔ اور امریکہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ناطے اس جنگ کے اخراجات با آسانی برداشت کر لے گا۔
سوال یہ ہے کہ اس جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں کتنی رقم خرچ کر چکا ہے اور مجموعی اخراجات کیا ہو سکتے ہیں ۔ اس حوالے سے امریکی تعلیمی ادارے براؤن یونیورسٹی کی 2025 جنگ کے اخراجات کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک امریکہ نے مشرق وسطیٰ میںاپنے کرائے کے قاتل اسرائیل کو تقریباً 21.7 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی ہے۔اس کے علاوہ امریکی ٹیکس دہندہ نے 9.65 ارب ڈالر سے 12.07 ارب ڈالر کی لاگت سے یمن، ایران اور وسیع مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی حمایت میں امریکی کارروائیوں کی مالی اعانت فراہم کی ہے۔یہ تنازعہ سے منسلک مجموعی امریکی اخراجات کو31.35سے33.77 ارب ڈالر تک کر دیتا ہے۔
اس وقت امریکہ نے اپنا تمام جدید اور مہنگا اسلحہ ایران کے خلاف جنگ میں جھونک رکھا ہے اور سینٹ کام کے مطابق آپریشن ایپک فیوری میں فضائی، سمندری، زمینی اور میزائل دفاعی فورسز کے 20 سے زیادہ اقسام کے ہتھیاروں کے نظام شامل ہیں۔جن میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس ابراہم لنکن کی قیادت میں دو طیارہ بردار جنگی جہازوں کے سٹرائیک گروپس سب سے اہم ہیں۔ اور جنگ کے آغاز سے اب تک ایران کے اندر 2,000 سے زیادہ اہداف کو سمندر زمین اور فضا سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
براؤن یونیورسٹی کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جاری فوجی مہم کی کل لاگت اور اس نئی جنگ سے امریکہ کو کتنا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔کیونکہ پینٹاگون نے اس حوالے کوئی معلومات جاری نہیں کیں۔ البتہ ہم بہتسے اخراجات اور انفرادی ہتھیاروں کی قیمتسے مجموعی اخراجات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔چنانچہ میڈیا رپورٹسکے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران امریکہ نے تقریباً 78 کروڑ ڈالر خرچ کیےگے۔جبکہ حملے سے پہلے کی فوجی تیاری جس میں ہوائی جہازوں کی جگہ بدلنا، ایک درجن سے زیادہ بحری جہازوں کی تعیناتی اور علاقائی اثاثوں کو متحرک کرنا شامل ہے۔ پر ایک اندازے کے مطابق63کروڑ ڈالر اضافی لاگت آئی۔
سینٹر فار نیو امریکن سیکیورٹی کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ جیسے ایک کیریئر اسٹرائیک گروپ کو چلانے کے لیے تقریباً 65 لاکھ ڈالریومیہ خرچ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ 2000ہزار اہداف کو نشانہ بنانے پر استعمال ہونے والے میزائلز، گولہ بارود اور ہوائی جہازوں کے اخراجات کا درست تخمینہ تو استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی اصل انوینٹری کے بغیر ممکن نہیں۔تاہم امریکی ہتھیاروں اور اسلحے کی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اجمالی تخمینہ تین ارب ڈالر سے زائد ہے۔ جس میں اسرائیلی فوجی اخراجات شامل نہیں۔جو بہرحال امریکہ ہی کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ اور یہ جنگ ابھی کئی ہفتوں جاری رہنی ہے۔







