بیجنگ:(پاک ترک نیوز)دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی نظر آ رہی ہے۔ صرف 3 دن کے اندر اندر 16 فوجی کارگو طیارے ایران پہنچ اور یہی خبر اس وقت عالمی طاقتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکی ہے۔
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور غیر مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، یہ طیارے چین سے اُڑان بھر کر تہران پہنچے، جس کے بعد واشنگٹن میں ہلچل مچ گئی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ طیارے آئے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ان طیاروں میں آخر کیا لایا گیا؟
امریکی میڈیا کے مطابق، یہ چین کی جانب سے اب تک کی سب سے بڑی اور تیز ترین خفیہ فوجی ایئر لفٹ ہو سکتی ہے۔ ایسے وقت میں جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے جنگی بحری بیڑے کی تعداد بڑھا دی ہے، اور واشنگٹن میں ایک بار پھر ایران میں رجیم چینج کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہو جاتی ہیں تو یہ کارروائی چین کی ایران کو دی جانے والی برسوں پر محیط خاموش مدد سے کہیں زیادہ بڑی سمجھی جا رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح پر لاجسٹک موومنٹ عام نہیں ہوتی، خاص طور پر ایسے حساس وقت میں۔
اب تک بیجنگ اور تہران دونوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ نہ تردید، نہ تصدیق۔ یہی خاموشی خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔ کیا چین واقعی ایران کو کسی بڑے تصادم کے لیے تیار کر رہا ہے؟
کیا ان طیاروں میں جدید میزائل، ڈرونز یا ایئر ڈیفنس سسٹمز موجود تھے؟ادھر امریکا کی بحری نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ، اور ادھر چین کی پراسرار ایئر لفٹ — یہ سب مل کر ایک ہی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا امریکا-ایران کشیدگی اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے؟












