واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکا سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس سے ہزاروں پاکستانی خاندانوں کی اُمیدوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امریکی امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ غیر معینہ مدت کے لیے منجمد کر دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پابندی امیگرنٹ ویزاز پر ہے، یعنی مستقل رہائش کے خواہشمند افراد براہِ راست متاثر ہوں گے، جبکہ سیاحتی یا اسٹوڈنٹ ویزا اس فیصلے کا حصہ نہیں ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ 21 جنوری سے امیگرنٹ ویزا درخواستوں کو روک دیں، جب تک نئے اسکریننگ اور ویٹنگ طریقہ کار کا دوبارہ جائزہ مکمل نہیں ہو جاتا۔
حیران کن طور پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں حالیہ بہتری بھی پاکستان کو اس فہرست سے نہیں بچا سکی۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ جن اہم ممالک کے نام سامنے آئے ہیں۔
ان میں روس، ایران، افغانستان، عراق، مصر، نائجیریا، برازیل، بنگلا دیش، نیپال، صومالیہ، شام سمیت 75 ممالک شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد “پبلک چارج” قانون ہے، جس کے تحت ایسے افراد کو ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے جو مستقبل میں امریکی فلاحی پروگرامز پر بوجھ بن سکتے ہوں۔
اس نئی پالیسی میں عمر، صحت، مالی حیثیت، انگریزی زبان پر عبور، حتیٰ کہ موٹاپا اور ماضی میں کسی بھی قسم کی سرکاری امداد لینے کا ریکارڈ بھی شامل کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی ٹیکس دہندگان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، جبکہ ناقدین اسے مہاجرین اور ترقی پذیر ممالک کے خلاف امتیازی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔












