واشنگٹن /تہران : (پاک ترک نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر خطرناک تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
عالمی میڈیا اور مغربی دفاعی حلقوں کے مطابق خطے میں غیر معمولی عسکری اور سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، جو کسی بڑی پیش رفت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔
برطانوی میڈیا نے مغربی فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران پر امریکی کارروائی کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جنگی حکمتِ عملی میں غیر متوقع فیصلے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اسی وجہ سے صورتحال جان بوجھ کر غیر واضح رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے تہران سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی فوری طور پر وطن طلب کر لیا گیا ہے، جسے ممکنہ فوجی کشیدگی سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایران میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں اور سزاؤں پر سخت ردعمل دے چکے ہیں اور سنگین نتائج کی وارننگ دے چکے ہیں۔
تاہم حالیہ پریس بریفنگ میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی وقتی طور پر مؤخر کی گئی ہے، کیونکہ حالیہ دنوں میں ہلاکتوں سے متعلق اطلاعات میں کمی آئی ہے۔
ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر اسپین، پولینڈ، اٹلی، بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اسی دوران خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں سے عملے کے انخلا کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات محفوظ نہیں رہیں گی، جس کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔












