راولپنڈی ( پاک ترک نیوز) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے اپنے کردار کے حوالے سے ’محتاط انداز میں پرامید‘ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ تاحال ایسے طاقت ورعناصر موجود ہیں جو نقصان پہنچا رہے ہیں اور رکاوٹیں ڈال رہے ہیں، جن کا خیال ہے کہ تنازع ان کے فائدے میں ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والی گفتگو یا امریکا کی حمایت پر بات کرنے سے گریز کیا۔
خیال رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حال ہی میں سعودی عرب اور ترکیے کے عہدیداروں کے ہمراہ تہران کا دورہ کیا تھا اور وہاں ایران کے اعلیٰ عسکری حکام اور وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔
ملاقات میں سعودی عرب کے وزیر دفاع خالد بن سلمان اور ترک خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالین بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا دیوہیکل روبوٹ، گائے جتنا وزن اٹھائے گا
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مکہ دفاعی معاہدے میں ایران کی شمولیت کے حوالے سے سوال پر کہا کہ معاہدے کا متن کسی نئے رکن کو شامل ہونے سے نہیں روکتا، جو بھی مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے وژن سے متفق ہے شامل کیوں نہیں ہوسکتا ہے، ہر کسی کا خیرمقدم ہے تاہم یہ فیصلہ تینوں بنیادی فریقین کی سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ رواں برس طے پایا تھا اور تینوں ممالک نے 7 اگست کو معاہدے پر دستخط کیے تھے اور کہا تھا کہ تینوں ممالک میں سے کسی پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ایران میں تینوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کی ایرانی حکام ملاقات کے بعد ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا تھا کہ خطے کی سلامتی بغیر کسی بیرونی مداخلت کے خطے کے ممالک کو ہی یقینی بنانی چاہیے۔
معاہدے کے تحت سعودی عرب میں پاکستان کے مزید فوجیوں کی تعیناتی پر کیے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس کا انحصار صورت حال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب، مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، ہم یمن تنازع کا حصہ نہیں ہیں جو یمن کا اندرونی تنازع ہے۔












