لاہور( پاک ترک نیوز) ایک طرف کروڑوں روپے کی گاڑیاں، بڑے بڑے بنگلے اور شاہانہ زندگی۔۔ دوسری طرف ایسے گھرانے بھی ہیں جہاں مہینے کے آخر میں نہیں، مہینے کے درمیان ہی راشن ختم ہونے لگتا ہے۔۔۔کہیں بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے، کہیں بچوں کی اسکول فیس کے لیے ماں باپ اپنی ضرورتیں قربان کردیتے ہیں، اور کہیں بیماری کا علاج کرانے سے پہلے جیب دیکھی جاتی ہےایک باپ سارا دن مزدوری کرتا ہے، پسینے سے شرابور گھر لوٹتا ہے۔۔۔ لیکن جب بچے پوچھتے ہیں کہ ابو! آج کھانے میں کیا ہے؟ تو شاید اس کے پاس جواب بھی نہیں ہوتا ۔ایک ماں اپنی خواہشات مار کر بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ کبھی اپنی دوا نہیں خریدتی، کبھی اپنے لیے کپڑے نہیں لیتی، صرف اس امید پر کہ اس کے بچوں کا مستقبل اس سے بہتر ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک غریب اپنے خواب قربان کرتا رہے گا؟
یہ پاکستان کی وہ حقیقت ہے جس سے نظریں چرانا آسان، لیکن اس کا سامنا کرنا انتہائی مشکل ہے۔۔آخر پاکستان میں غربت کتنی بڑھ چکی ہے؟ کتنے لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں؟ اور سب سے بڑا سوال، آخر محنت کرنے کے باوجود عام پاکستانی خوش حال کیوں نہیں ہو پا رہا؟حکومتِ پاکستان کے اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق قومی غربت کی شرح 28.9 فیصد ہے۔ یعنی قومی غربت کے پیمانے کے مطابق ہر 100 پاکستانیوں میں تقریباً 29 افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔یہ اعداد و شمار ایک تلخ سوال اٹھاتے ہیں۔ کیا ملک کے ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہیں؟ جب ایک طرف بنیادی سہولتیں میسر نہ ہوں اور دوسری طرف روزگار کے مواقع محدود ہوں تو غربت سے نکلنا آخر کیسے ممکن ہوگا؟
اب ذرا اس خاندان کی زندگی دیکھیے جس کی آمدن محدود ہے، لیکن اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں،گھر کا کرایہ دینا ہے، بچوں کی فیس جمع کرانی ہے، بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے ہیں، راشن خریدنا ہے، اور اگر گھر میں کوئی بیمار ہوجائے تو علاج کا خرچ بھی برداشت کرنا ہے۔لیکن اگر تنخواہ ان تمام اخراجات کے لیے کافی نہ ہو تو پھر کیا ہوگا؟کسی ضرورت پر سمجھوتہ ہوگا، کسی خواہش کو دفن کرنا پڑے گا، یا پھر قرض لینا پڑے گا ۔۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں رہتی، بلکہ پورے خاندان کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔لیکن پاکستان میں غربت بڑھنے کی وجہ صرف مہنگائی ہے؟ ہرگز نہیں،بے روزگاری، کم اجرت، غیر رسمی ملازمتیں، معیاری تعلیم تک محدود رسائی، آبادی میں اضافہ اور معاشی عدم استحکام، یہ سب عوامل مل کر عام آدمی کی مشکلات بڑھاتے ہیں۔
جب نوجوانوں کو مناسب ملازمت نہ ملے، چھوٹے کاروبار کے اخراجات بڑھ جائیں اور کسان کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہ ملے تو اس کے اثرات صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہتے۔ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔جب کسی بچے کو مناسب غذا نہ ملے، تعلیم ادھوری رہ جائے یا گھر کے مالی حالات اسے کم عمری میں کام کرنے پر مجبور کردیں تو اس کے مستقبل کے مواقع محدود ہوسکتے ہیں۔یوں غربت ایک ایسے چکر میں تبدیل ہوسکتی ہے جس سے نکلنے کے لیے صرف محنت نہیں، بلکہ تعلیم، صحت، روزگار اور حکومتی مدد بھی ضروری ہوتی ہے۔اب سوال حکومت سے ہے۔۔۔کیا صرف امدادی رقم دینے سے غربت ختم ہوجائے گی؟ کیا وقتی ریلیف سے خاندان مستقل طور پر خوش حال ہوسکتے ہیں؟امدادی پروگرام ضرورت مندوں کے لیے اہم ہیں، لیکن مستقل حل کے لیے روزگار پیدا کرنا، چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینا، نوجوانوں کو ہنر سکھانا، تعلیم اور علاج سستا کرنا، اور کم آمدن والے طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان
اگر محنت کرنے والے کو مناسب اجرت، نوجوان کو روزگار، بچے کو معیاری تعلیم اور بیمار کو علاج نہیں ملتا تو معاشی ترقی کے ثمرات عام شہری تک کیسے پہنچیں گے؟یہ مسئلہ کسی ایک طبقے، ایک شہر یا ایک صوبے کا نہیں۔ یہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہےحکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ غریب کو صرف وقتی سہارا نہ دے، بلکہ اسے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع بھی فراہم کرے۔کیونکہ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں، یہ ادھورے خوابوں، بچوں کی مجبوریاں اور والدین کی خاموش قربانیوں کا نام بھی ہے۔











