
از: سہیل شہریار
امریکی فوج نے پیر کے روز سے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور نکلنے والی تمام سمندری ٹریفک کی ناکہ بندی کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔جس میں کسی اور جگہ سے آنے والے یا جانے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہے۔
میری ٹائم ڈیٹا کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے صرف 23بحری جہازوں کو آبنائے سے گزرتے ہوئے ٹریک کیا گیا ہے۔جبکہ 28 فروری کوجنگ شروع ہونے سے پہلے اوسطاً 138 بحری جہاز ہر روز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے۔
امریکی بحریہ کے 2022 کے قانون کے مطابق ناکہ بندی کا مطلب تمام ریاستوں کے تمام بحری و ہوائی جہازوں کو دشمن اور غیرجانبدار مخصوص بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، یا ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا باہر جانے سے روکنے کے لیےکیا جانے والاجنگی آپریشن ہے۔
اس حوالے سے امریکی سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی افواج امریکی وقت کے مطابق پیر کی صبح دس بجے سےآبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کریں گی۔بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ناکہ بندی میںخلیج عرب اور خلیج عمان کی تمام ایرانی بندرگاہوں سمیت دیگر ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا جانے والے تمام ممالک کے جہازوں کے خلاف غیر جانبداری سے ناکہ بندی نافذ کی جائے گی۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتورا کی شام امریکی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویواور اپنے سماجی میڈیا کے اکاؤنٹ پر لکھا تھا کہ پاکستان میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات ناکام ہو گئے کیونکہ ایران "اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کو تیار نہیں”۔جبکہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےاپنے جواب میں امریکہ کے بڑھتے ہوئےمطالبات اور غیر قانونی درخواستوںکو بات چیت کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔
جہاز رانی کے ماہرین نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے کی امریکی کاروائی کو غیر ضروری قراد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف چند مٹھی بھر جہازوں کو متاثر کرے گی جو اب بھی آبی گزرگاہ استعمال کر رہے ہیں۔چنانچہ یہ ایک بہت ہی چھوٹی چال ہو گی جس سے کچھ نہیں بدلے گا۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ٹول ادا کرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو محفوظ راستہ نہ ملنے کی دھمکی کا بھی بہت کم اثر پڑے گا۔کیونکہ ایسا کرنے والی بیشتر جہاز راں کمپنیاں پابندیوں سے بچنے کے لئے اس ادائیگی کو ظاہر نہیں کریں گی۔ ویسے بھی آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد اب نہ ہونے کے برابر ہے۔تاہم ناکہ بندی جہازوں کی تعداد مزید کم کرنے کا موجب بنے گی۔جبکہ زیادہ تر شپنگ کمپنیاںعارضی جنگ بندی کے معاہدےکے برقرار رہنے تک انتظار کرنا جاری رکھیں گی اور اگر ایسا ہوتا ہے توآبنائے ہرمز سے جہازوں کے گزرنے کا سلسلہ سست رفتاری سے دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔












