بیجنگ (پاک ترک نیوز )چین میں ملک کی طویل ترین زیرِ آب شاہراہ سرنگ کی مشینی کھدائی کا اہم مرحلہ مکمل کرلیا گیا، کھدائی کرنے والی مشین سمندر کی سطح سے 105 میٹر گہرائی میں مقررہ مقام تک پہنچ گئی۔
چین کے صوبہ شان ڈونگ کے شہر چنگ ڈاؤ میں تعمیر ہونے والی دوسری جیاوژو بے سرنگ شہر کے مرکزی علاقے کو مغربی ساحلی نئے علاقے سے ملائے گی۔
منصوبے کی مجموعی لمبائی 17.48 کلومیٹر ہے، جس میں 14.37 کلومیٹر کا مرکزی سرنگی حصہ شامل ہے۔ منصوبے میں دو مرکزی سرنگوں کے ساتھ ایک درمیانی امدادی سرنگ بھی تعمیر کی جا رہی ہے، جبکہ دونوں سمتوں میں تین تین لین ہوں گی۔
سرنگ میں گاڑیوں کی زیادہ سے زیادہ ڈیزائن رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے۔
چینی حکام کے مطابق سرنگ کی تعمیر میں چٹان توڑنے اور مشینی کھدائی، دونوں طریقے استعمال کیے گئے۔ تعمیراتی کام جیاوژو بے کے مشرقی اور مغربی ساحلوں سے بیک وقت آگے بڑھایا گیا اور دونوں حصے سمندر کے نیچے آکر آپس میں مل گئے۔
مرکزی سرنگ کی مشینی کھدائی کا زیادہ سے زیادہ حصہ سمندر کی سطح سے 95 میٹر نیچے ہے، جبکہ امدادی سرنگ 105 میٹر گہرائی تک پہنچتی ہے۔ اس گہرائی میں پانی کا شدید دباؤ ہونے کے باعث سرنگ کی مضبوط بندش اور پانی سے مکمل تحفظ ایک بڑا تعمیراتی چیلنج تھا۔
چینی انجینئرز نے ملبہ باہر نکالنے کے لیے پہلی مرتبہ ایک نیا نظام بھی استعمال کیا، جس میں پیچ نما ملبہ نکالنے والی مشین، چٹان توڑنے والا خانہ اور چٹان شکن مشین شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس نظام سے تعمیراتی رفتار بہتر بنانے اور مشین میں رکاوٹ کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملی۔
اس کے علاوہ کھدائی کرنے والی مشین کے ڈھانچے کو ارتعاش سے محفوظ رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی بھی تیار کی گئی، جس سے گہرے سمندری حصے میں مشین کے استحکام کو بہتر بنایا گیا۔
مکمل ہونے کے بعد یہ سرنگ موجودہ جیاوژو بے سرنگ، جیاوژو بے پل اور جیاوژو بے شاہراہ کے ساتھ مل کر چنگ ڈاؤ میں سمندر کے دونوں اطراف آمدورفت کا ایک کثیر سطحی نظام قائم کرے گی۔
چین نے 2026 سے 2030 تک کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران مربوط نقل و حمل کے جدید نظام کو مزید فروغ دینے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت مختلف ذرائع آمدورفت کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے اور مسافروں و مال برداری کی سہولت بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔








