لاہور( پاک ترک نیوز) الپس کے برف پوش پہاڑوں کے نیچے دنیا کا ایک ایسا انجینئرنگ شاہکار تعمیر کیا جا رہا ہے جو نہ صرف سفر کا انداز بدل دے گا بلکہ عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کرے گا۔ آسٹریا اور اٹلی کی مشترکہ کاوش سے بننے والی برینر بیس سرنگ مکمل ہونے کے بعد دنیا کی طویل ترین زیرِ زمین ریلوے سرنگ بن جائے گی۔
آسٹریا اور اٹلی الپس کے پہاڑی سلسلے کے نیچے تقریباً پچپن کلومیٹر طویل برینر بیس سرنگ تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ سرنگ آسٹریا کے شہر انسبرک کو اٹلی کے شہر فورتیتزا سے ملائے گی اور اس کا پورا راستہ پہاڑ کے اندر سے گزرے گا۔ انسبرک کے موجودہ زیرِ زمین ریلوے حصے کو شامل کرنے پر مسلسل زیرِ زمین ریلوے راستہ چونسٹھ کلومیٹر تک پہنچ جائے گا، جو اسے دنیا کی سب سے طویل زیرِ زمین ریلوے سرنگ بنا دے گا۔
اس منصوبے کا سب سے بڑا مقصد ٹرینوں کو پہاڑوں پر چڑھانے کے بجائے پہاڑ کے نیچے تقریباً ہموار راستہ فراہم کرنا ہے۔ اس سے مال بردار ٹرینیں زیادہ وزن کے ساتھ کم انجن استعمال کرتے ہوئے سفر کر سکیں گی، ایندھن کی بچت ہوگی، نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی اور سفر پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور محفوظ ہو جائے گا۔
سرنگ کی تعمیر انتہائی پیچیدہ مرحلہ ہے۔ جدید خودکار کھدائی مشینیں مسلسل چٹانوں کو کاٹ رہی ہیں، جبکہ سخت اور دشوار گزار حصوں میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے راستہ بنایا جا رہا ہے۔ کئی مقامات پر سرنگ کے اوپر تقریباً سترہ سو میٹر بلند پہاڑی چٹان موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے مشکل ترین تعمیراتی منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
منصوبے میں دو الگ الگ مرکزی سرنگیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جن میں ہر سمت جانے والی ٹرین کے لیے ایک سرنگ مخصوص ہوگی۔ دونوں سرنگوں کو حفاظتی راستوں کے ذریعے آپس میں جوڑا جائے گا، جبکہ ان کے نیچے ایک تیسری تحقیقی سرنگ بھی بنائی جا رہی ہے، جو چٹانوں کا جائزہ لینے، پانی کی نکاسی اور مستقبل میں دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: برف کے چار کلومیٹر نیچے چھپی پراسرار جھیل
ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ ماحول کو ہوگا۔ اس وقت الپس کے برینر درے سے روزانہ ہزاروں مال بردار ٹرک گزرتے ہیں، جس سے فضائی آلودگی، شور اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ نئی سرنگ کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان سڑکوں کے بجائے ریل کے ذریعے منتقل کیا جائے گا، جس سے آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی اور پہاڑی علاقوں کا ماحول محفوظ رہے گا۔
مسافروں کے لیے بھی یہ منصوبہ بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ جنوبی جرمنی اور شمالی اٹلی کے درمیان ریلوے سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جبکہ یورپ کے شمال اور جنوب کے درمیان تجارت بھی زیادہ تیز اور مؤثر بن سکے گی۔
اس اربوں یورو مالیت کے منصوبے کی مالی معاونت آسٹریا، اٹلی اور یورپی یونین مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ سرنگ کی تعمیر ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری ہے اور توقع ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک اسے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد سوئٹزرلینڈ کی ستاون کلومیٹر طویل گوٹھارڈ بیس سرنگ دنیا کی طویل ترین زیرِ زمین ریلوے سرنگ کا اعزاز کھو دے گی۔
برینر بیس سرنگ صرف ایک ریلوے منصوبہ نہیں بلکہ جدید انجینئرنگ، ماحول دوست نقل و حمل اور یورپ کے مستقبل کے سفری نظام کی نئی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ قائم ہوگا بلکہ الپس کے دشوار گزار پہاڑ بھی جدید ٹیکنالوجی کے سامنے ایک نئی راہداری میں تبدیل ہو جائیں گے۔








