جمعرات , 6 اگست , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

برف پوش پہاڑوں کے نیچے سرنگ کی تعمیر

2 گھنٹے پہلے
A A
Building a tunnel under the snow-capped mountains
Share on Facebookwhatsapp

لاہور( پاک ترک نیوز) الپس کے برف پوش پہاڑوں کے نیچے دنیا کا ایک ایسا انجینئرنگ شاہکار تعمیر کیا جا رہا ہے جو نہ صرف سفر کا انداز بدل دے گا بلکہ عالمی ریکارڈ بھی اپنے نام کرے گا۔ آسٹریا اور اٹلی کی مشترکہ کاوش سے بننے والی برینر بیس سرنگ مکمل ہونے کے بعد دنیا کی طویل ترین زیرِ زمین ریلوے سرنگ بن جائے گی۔

آسٹریا اور اٹلی الپس کے پہاڑی سلسلے کے نیچے تقریباً پچپن کلومیٹر طویل برینر بیس سرنگ تعمیر کر رہے ہیں۔ یہ سرنگ آسٹریا کے شہر انسبرک کو اٹلی کے شہر فورتیتزا سے ملائے گی اور اس کا پورا راستہ پہاڑ کے اندر سے گزرے گا۔ انسبرک کے موجودہ زیرِ زمین ریلوے حصے کو شامل کرنے پر مسلسل زیرِ زمین ریلوے راستہ چونسٹھ کلومیٹر تک پہنچ جائے گا، جو اسے دنیا کی سب سے طویل زیرِ زمین ریلوے سرنگ بنا دے گا۔

اس منصوبے کا سب سے بڑا مقصد ٹرینوں کو پہاڑوں پر چڑھانے کے بجائے پہاڑ کے نیچے تقریباً ہموار راستہ فراہم کرنا ہے۔ اس سے مال بردار ٹرینیں زیادہ وزن کے ساتھ کم انجن استعمال کرتے ہوئے سفر کر سکیں گی، ایندھن کی بچت ہوگی، نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی اور سفر پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور محفوظ ہو جائے گا۔

سرنگ کی تعمیر انتہائی پیچیدہ مرحلہ ہے۔ جدید خودکار کھدائی مشینیں مسلسل چٹانوں کو کاٹ رہی ہیں، جبکہ سخت اور دشوار گزار حصوں میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے راستہ بنایا جا رہا ہے۔ کئی مقامات پر سرنگ کے اوپر تقریباً سترہ سو میٹر بلند پہاڑی چٹان موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے مشکل ترین تعمیراتی منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

منصوبے میں دو الگ الگ مرکزی سرنگیں تعمیر کی جا رہی ہیں، جن میں ہر سمت جانے والی ٹرین کے لیے ایک سرنگ مخصوص ہوگی۔ دونوں سرنگوں کو حفاظتی راستوں کے ذریعے آپس میں جوڑا جائے گا، جبکہ ان کے نیچے ایک تیسری تحقیقی سرنگ بھی بنائی جا رہی ہے، جو چٹانوں کا جائزہ لینے، پانی کی نکاسی اور مستقبل میں دیکھ بھال کے لیے استعمال ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: برف کے چار کلومیٹر نیچے چھپی پراسرار جھیل

ماہرین کے مطابق اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ ماحول کو ہوگا۔ اس وقت الپس کے برینر درے سے روزانہ ہزاروں مال بردار ٹرک گزرتے ہیں، جس سے فضائی آلودگی، شور اور ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ نئی سرنگ کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان سڑکوں کے بجائے ریل کے ذریعے منتقل کیا جائے گا، جس سے آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی اور پہاڑی علاقوں کا ماحول محفوظ رہے گا۔

مسافروں کے لیے بھی یہ منصوبہ بڑی سہولت ثابت ہوگا۔ جنوبی جرمنی اور شمالی اٹلی کے درمیان ریلوے سفر کا دورانیہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا، جبکہ یورپ کے شمال اور جنوب کے درمیان تجارت بھی زیادہ تیز اور مؤثر بن سکے گی۔

اس اربوں یورو مالیت کے منصوبے کی مالی معاونت آسٹریا، اٹلی اور یورپی یونین مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ سرنگ کی تعمیر ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری ہے اور توقع ہے کہ اس دہائی کے اختتام تک اسے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد سوئٹزرلینڈ کی ستاون کلومیٹر طویل گوٹھارڈ بیس سرنگ دنیا کی طویل ترین زیرِ زمین ریلوے سرنگ کا اعزاز کھو دے گی۔

برینر بیس سرنگ صرف ایک ریلوے منصوبہ نہیں بلکہ جدید انجینئرنگ، ماحول دوست نقل و حمل اور یورپ کے مستقبل کے سفری نظام کی نئی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد نہ صرف ایک عالمی ریکارڈ قائم ہوگا بلکہ الپس کے دشوار گزار پہاڑ بھی جدید ٹیکنالوجی کے سامنے ایک نئی راہداری میں تبدیل ہو جائیں گے۔

موضوعات : #lakeglacierstunnel
ShareSend

متعلقہ خبریں

Mysterious lake hidden four kilometers under ice
تازہ ترین

برف کے چار کلومیٹر نیچے چھپی پراسرار جھیل

21 جون , 2026
پی ڈی ایم اے کا گلیشیئر پگھلنے ،بارشوں سے سیلاب کا الرٹ
پاکستان

پی ڈی ایم اے کا گلیشیئر پگھلنے ،بارشوں سے سیلاب کا الرٹ

13 جون , 2026
اگلی خبر
Australia has changed visa processing rules for skilled individuals.

آسٹریلیا نے ہنر مند افراد کیلئے ویزا پروسیسنگ قواعد میں تبدیلی کردی

یہ بھی پڑھیں

SpaceX's Starlink preparing to challenge wireless companies via mobile service.

اسپیس ایکس کی اسٹار لنک موبائل کے ذریعے وائرلیس کمپنیوں کو ٹکر دینے کی تیاری

6 اگست , 2026
The Superintendent of Adiala Jail has denied keeping Bushra Bibi in solitary confinement.

سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بشری بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھنے کی تردید کر دی

6 اگست , 2026
The threat of cyberattacks on US water systems has increased; investigations are underway.

امریکا کے آبی نظام پر سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا، تحقیقات جاری

6 اگست , 2026
France again refuses to provide India with sensitive Rafale source codes.

فرانس کا بھارت کو رافیل کے حساس سورس کوڈز کی فراہمی سےپھر انکار

6 اگست , 2026
Australia has changed visa processing rules for skilled individuals.

آسٹریلیا نے ہنر مند افراد کیلئے ویزا پروسیسنگ قواعد میں تبدیلی کردی

6 اگست , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔