میکسیکو سٹی :(پاک ترک نیوز) وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کے اغوا نے پورے لاطینی امریکا میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ خطے کے کئی ممالک کو خدشہ ہے کہ امریکا ایک بار پھر کھلی فوجی مداخلت کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
ان خدشات کا مرکز خاص طور پر میکسیکو ہے، جو امریکا کا پڑوسی اور دیرینہ اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ہفتے کے روز وینزویلا پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں میکسیکو، کیوبا اور کولمبیا کا بھی ذکر کیا۔
وینزویلا پر حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے، جسے عالمی سطح پر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کے نام پر امریکا میکسیکو کی سرزمین پر بھی فوجی حملے کر سکتا ہے۔
فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’میکسیکو کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ منشیات کارٹلز سے خوفزدہ ہیں اور ’’کارٹلز ہی میکسیکو چلا رہے ہیں‘‘۔
صدر کلاڈیا شینبام نے ان دھمکیوں کا سخت جواب دیتے ہوئے میکسیکو کی خودمختاری پر واضح مؤقف اپنایا۔ انہوں نے کہا، ’’ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ میکسیکو میں عوام کی حکمرانی ہے اور ہم ایک آزاد و خودمختار ملک ہیں۔ تعاون ہو سکتا ہے، لیکن ماتحتی اور مداخلت نہیں۔‘‘
ماہرین کے مطابق امریکا کی ماضی کی مداخلتیں میکسیکو کی قومی یادداشت کا اہم حصہ ہیں، اسی لیے ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے وینزویلا حملے کے دوران مونرو ڈاکٹرائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اسے بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ لکھا: ’’یہ ہمارا خطہ ہے۔‘‘
اگرچہ صدر شینبام نے امریکا کے ساتھ سیکیورٹی، تجارت اور امیگریشن پر تعاون جاری رکھا ہے، تاہم انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ میکسیکو کی سرزمین پر یکطرفہ امریکی فوجی کارروائی ایک سرخ لکیر ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا پر حملے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔












