لندن (پاک ترک نیوز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے مختلف منصوبوں پر گفتگو کی ہے تاکہ غزہ میں قید اسرائیلیوں کو آزاد کرایا جا سکے۔ امریکہ دیگر ممالک کے ساتھ مل کر غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد میں اضافہ کرے گا۔
اسکاٹ لینڈ میں اپنے گالف ریزورٹ میں برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایسے فوڈ سینٹرز قائم کریں گے جہاں لوگ بغیر کسی رکاوٹ یا دیوار کے آسانی سے داخل ہو سکیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حماس بات چیت کی خواہش مند نہیں تھی اور اسے اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑی ہے۔ ان کا اشارہ 7 اکتوبر کے حملے کی طرف تھا۔ ان کے بہ قول حالیہ دنوں میں حماس سے بات چیت مزید مشکل ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس باقی قیدیوں کو رہا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ تاہم اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ غزہ تک امداد کی روانی کو یقینی بنائے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکہ غزہ میں خوراک کی شدید قلت سے بچاؤ کے لیے امدادی مراکز قائم کرے گا۔ جہاں کوئی رکاوٹ یا پابندی نہیں ہوگی، تاکہ ہر ضرورت مند باآسانی مدد حاصل کر سکے۔
برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے گفتگو میں کہا کہ ان کا ملک اردن کے ساتھ مل کر محصور غزہ میں امداد کی ترسیل کے لیے کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق غزہ کی صورت حال انتہائی ہولناک اور انسانی بحران سنگین تر ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی اس جنگ کے جاری رہنے کا خواہاں نہیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہےکہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث مزید 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جس کے بعد بھوک سے مجموعی اموات کی تعداد 147 ہو گئی ہے۔ جن میں 88 بچے شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز امدادی سامان کے لئے راہداریاں کھولنے کے بعد 300 سے زائد امدادی ٹرک غزہ پہنچ چکے ہیں۔












