
از: سہیل یہر
صدرٹرمپ نے الاسکا میں پوٹن سے ملاقات کے دو دن بعد گذشتہ شام وائٹ ہاؤس میں زیلنسکی اور امریکہ کے قریبی یورپی اتحادیوںبرطانیہ فرانس، جرمنی، اٹلی، فن لینڈاور، نیٹو کے رہنماؤں کی میزبانی کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پوٹن کو فون کیا ہے اور پوٹن ۔ زیلنسکی ملاقات کا بندوبست کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے بعد تینوں صدور کے درمیان سہ فریقی سربراہی اجلاس ہو گا تاکہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی جا سکے۔
https://www.youtube.com/watch?v=lkxD4xXUomE
امریکی صدر نے زیلنسکی کو بتایا کہ امریکہ وہاں روس کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے کسی بھی معاہدے میں یوکرین کی سلامتی کی ضمانت دینے میں مدد کرے گا۔تاہم انہوں نےوعدہ شدہ امداد کی حد واضح نہیں کی۔ٹرمپ نے کہا کہ "جب سیکورٹی کی بات آتی ہے تو بہت مدد ملے گی اور یورپی ممالک بھی اس میں شامل ہوں گے۔
زیلنسکی نے اس وعدے کو "آگے کی جانب ایک بڑےقدم” کے طور پر سراہا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ان ضمانتوں کو "اگلے ہفتے سے 10 دن کے اندر کاغذ پر رسمی شکل دے دی جائے گی” ۔ زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ یوکرین نے تقریباً 90 ارب ڈالر مالیت کے امریکی ہتھیار خریدنے کی پیشکش کی ہے۔
اگرچہ کریملن نے عوامی طور پرصدور کی ملاقات پر رضا مندی کا اعلان نہیں کیا ہے۔ البتہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ پوٹن-زیلنسکی ملاقات ہنگری میں ہو سکتی ہے۔جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے مطابق یہ جوڑا اگلے دو ہفتوں میں ملاقات کرے گا۔
کل ہونے والی ٹرمپ۔ زیلنسکی ملاقات کا لہجہ اوول آفس کی فروری میں ہونے والی تباہ کن ملاقات سے مختلف اور گرم جوشی پر مبنی تھا۔ اس موقع پرصدرٹرمپ نے زیلنسکی کو یوکرین کا 20 فیصد چھوٹا نیا نقشہ تھما دیا۔اوول آفس میں پیش کیے گئے نقشے میں وہ علاقے جو روس کے زیر کنٹرول ہیں گلابی رنگ میں نمایاں کیے گئے تھے۔
یوکرائنی رہنما نے کہا کہ وہ پوٹن کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے لیے تیار ہیں لیکن صحافیوں کو بتایا کہ اس طرح کی ملاقات کب ہو گی اس کی کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔ آج ہمارے بچوں کی واپسی، جنگی قیدیوں اور روس کے زیر حراست شہریوں کی رہائی پر بہت زیادہ توجہ دی گئی۔ ہم نے اس پر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ امریکی صدر نے رہنماؤں کی سطح پر ملاقات کی بھی حمایت کی۔ حساس مسائل کے حل کے لیے ایسی میٹنگ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میںسلامتی کی ضمانتوں پر تبادلہ خیال کیا ہے جو کہ "اہم ترین مسئلہ اور جنگ کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہے۔ ہم اس ضمن میں ان ضمانتوں کی حمایت کرنے اور ان کا حصہ بننے کی امریکی پیشکش کو سراہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی یوکرین سمٹ کے حوالے سے امریکی اور مغربی میڈیا سمیت سماجی میڈیا پر قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔مثلاً یوکرین نے معاہدے سے انکار کر دیا۔ زیلنسکی نے روس سے جنگ کا ہرجانہ مانگ لیا۔وائٹ ہاؤس اجلاس ناکا م زیلنسکی نے روس کے زیر قبضہ علاقے واپس مانگ لئے وغیرہ وغیرہ ۔ان میں سے کسی کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ کیونکہ زیلنسکی سمیت ملاقات میں شامل کسی ایک بھی راہنما نے ان میں سے کسی ایک بھی بات کی جانب اشارہ نہیں کیا ۔بلکہ زیلنسکی نے تو ملاقات کے بعد رات گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج واشنگٹن میں اہم مذاکرات ہوئے۔ ہم نے صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت سے معاملات پر بات کی۔ یہ ایک طویل اور تفصیلی گفتگو تھی میں دعوت دینے اور آج کی ملاقات کے خصوصی فارمیٹ کے لیے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان تمام رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو آج ہمارے ساتھ تھے۔ ہم اپنا کام جاری رکھتے ہوئے اپنے اقدامات کو ان تمام اتحادیوں کے ساتھ مربوط کرتے ہیں جو اس جنگ کو وقار کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اس ساری پیش رفت کے باوجود روس اور یوکرین کی جانب سے ایک دوسرے پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران روس کی جانب سے یوکرین میں شہری علاقوں جبکہ یوکرینی میزائلوں نے روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا۔












