
از: سہیل شہریار
بنگلہ دیش کے نئے وزیر اعظم اور 12فروری کو ہونے والے انتخاب میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائد 61سالہ طارق رحمان معروف سیاست دان ہیں جنہوں نے اپنی والدہ اور سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی وفات کے بعد دو ماہ پہلے پارٹی کی باقاعدہ قیادت سنبھالی تھی۔
آئیے آپ کو بنگلہ دیش کے نئے اور ترتیب کے اعتبار سے 11ویں وزیر اعظم طارق رحمان سے ملواتے ہیں۔مگر اس سے قبل اپنی سکرین پرگھنٹی کے نشان کو کلک کر کے ہمیں اپنی پسندیدگی سے ضرور نوازیے۔
طارق رحمان جو اندرون ملک طارق ضیا کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سابق صدر ضیا الرحمان اور سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیا کے بڑے بیٹے ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ جونز سیکنڈری ہائی سکول ، آدم جی کنٹونمنٹ کالج اور بی اے ایف شاہین کالج ڈھاکہ سے مکمل کی۔ پھر 1984-85میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں پہلےقانون اور اسکے بعدانٹرنیشنل ریلیشنز میںداخلہ لیا مگر ڈگری مکمل نہیں کر سکے ۔اسی لئے انکے انتخابی فارم میں انکی تعلیم اعلیٰ ثانوی سرٹیفکیٹ درج ہے۔
1988 میں تعلیم مکمل کرنے پرطارق نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز اپنے موررثی حلقے بی این پی کے گابٹالی یونٹ سے کیا ۔ وہ 2002 میں بی این پی کے سینیئر جوائنٹ سیکریٹری جنرل اور بعد میں 2009 میں سینیئر وائس چیئرمین مقرر ہوئے۔اسی دوران طارق رحمان 1994میں اپنی اہلیہ زبیدہ رحمان سے رشتہ ازدواج میں بندھے۔ انکی واحد اولادایک بیٹی زعیمہ ہے
فوج کی جانب سے خالدہ ضیا کو اقتدار سے الگ کئے جانے کے بعد سنہ 2007 میں جب فوج کی حامی نگران حکومت نے اقتدار سنبھالا تو طارق رحمان کو کرپشن اور دیگر الزامات پر گرفتار کیا گیا۔انہوںنے 18 ماہ جیل میں گزارنے کے بعد ستمبر 2008 میں طبی بنیاد پر رہا ہونے کےبعد اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی۔ تاہم وہ ملکی سیاست میں پوری طرح متحرک رہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ان کی والدہ خالدہ ضیا کو 2018 میں کرپشن کیس میں قید کی سزا سنائی گئی۔تو طارق نے عبوری چیئرمین کی حیثیت سے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔
اگست 2024میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بننے والی محمدیونس کی قیادت میں عبوری حکومت میں عدالتوں نے ایک ایک کر کے طارق رحمان کے خلاف بنائے گئے تمام 84 مقدمات میں انہیں بری کر دیا۔ تو تقریباً 17 سال بعد طارق رحمان 25 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ واپس لوٹے جہاں انکا تاریخی استقبال کیا گیا۔ انکی وطن واپسی کے چند دن بعد 30دسمبر2025کو انکی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ 9 جنوری 2026 کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی نے انہیں باضابطہ طور پر پارٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔تو اسے ایک طے شدہ فیصلہ قرار دیا گیا کیونکہ وہ پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کی عملی قیادت کر رہے تھے۔
انتخابات سے قبل طارق رحمان نے ایک بھرپور انتخابی مہم میں اپنی پارٹی کی قیادت کی جس میں انکی اہلیہ زبیدہ رحمان اور صاحبزادی زعیمہ رحمان نے انکی بھرپور معاونت کی۔












